سپریم کورٹ کسینو نہیں کہ نیب ملازمین اس طرح حملہ آور ہوں

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سپریم کورٹ کے احاطے سے ملزم کی گرفتاری پر لیے گئے نوٹس سے متعلق کیس میں قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کوئی کسینو نہیں کہ نیب ملازمین اس طرح حملہ آور ہوں۔

مضاربہ اسکینڈل میں نامزد ملزم سیف الرحمان خان کی عدالت سے گرفتاری پر لیے گئے نوٹس پر سماعت قائم چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ہوئی۔قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب شہریوں کو خوفزدہ کر کے ریکوری نہیں کر سکتا، نیب نے ملزم کو سپریم کورٹ کے احاطے سے ڈرامائی انداز میں اٹھایا، اتنی کیا جلدی تھی۔

سپریم کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ سیف الرحمان ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے پر فرار ہو گئے تھے، نیب نے سیف الرحمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔عدالت کے حکم پر ملزم سیف الرحمان خان کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا اور 10لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔

 دریں اثنا احتساب بیورو (نیب) چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال  نے سپریم کورٹ کے احاطے سے مبینہ ملزم کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا۔نیب اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیب نے ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب راولپنڈی سے 24 گھنٹوں کےاندر رپورٹ طلب کی ہے جس کی روشنی میں ذمہ داروں کے تعین کے بعد ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ نیب نے مضاربہ اسکینڈل میں نامزد نجی کمپنی کے مالک سیف الرحمان کو سپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا جس پر قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب سے وضاحت طلب کی ہے۔

Related Articles

Back to top button