لاہورہائیکورٹ کا غیر منتخب افراد کے وفاقی حکومت چلانے پر سوالات

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان کا کہنا ہے کہ ایک عام تاثر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے معاملات وزیر اعظم کے غیر منتخب معاونین کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں۔ منتخب اور غیر منتخب افراد کے درمیاں بنیادی فرق کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘آخر میں غیر منتخب افراد اپنے بستے اٹھاتے ہیں اور اپنے دفتروں میں واپس چلے جاتے ہیں لیکن منتخب افراد کو اپنے انتخابی حلقوں کے عوام کا سامنا کرنا پڑتا ہے’۔
چیف جسٹس ملک میں پیٹرول کی قلت اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں حکومت کی ناکامی کے حوالے سے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ عدالت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل، چیف سیکرٹری جواد رفیق اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔ اٹارنی جنرل نے پیٹرول بحران کے معاملے پر وفاقی کابینہ اجلاس کے چند نکات عدالت کے سامنے پیش کیے۔ اس کو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ اجلاس کے نکات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کا نام لیے بغیر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ معاون خصوصی نے کابینہ کو بتایا تھا کہ عوام میں پیٹرول کی قلت کے پیچھے خوف و ہراس ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ‘کابینہ کو گمراہ کیا گیا ہے اور متعلقہ وزارت چلانے والا معاون خصوصی اس بحران کے ذمہ دار ہیں’۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے وضاحت طلب کی کہ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے اور کیا او ایم سیز نے ان کے معاہدوں کے مطابق 20 دن کا لازمی اسٹاک برقرار رکھا تھا؟
چیف جسٹس نے تیل کی قیمتوں میں 26 جون کو اوگرا کی سمری کے بغیر اضافہ کرنے اور حکومت کے دعوے کہ ریگولیٹر سے زبانی مشاورت ہوئی ہے، پر برہمی کا اظہار کیا۔ تاہم اکاؤنٹنٹ جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ وہ اس اقدام کا دفاع نہیں کریں گے۔ انہوں نے پیٹرول بحران سے متعلق حکومت کے کمیشن کے لیے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پیش کرنے کے لیے عدالت سے وقت بھی طلب کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو مکمل اختیار حاصل تھا کہ وہ حکومت کو کمیشن سے متعلق اپنی تجویز پیش کرے تاہم کمیشن کی رپورٹ عدالت پر پابند نہیں ہوگی کیونکہ اگر عدالت نے رپورٹ کو تسلی بخش نہ سمجھا تو ایک علیحدہ عدالتی حکم پاس کیا جاسکتا ہے۔ اے جی پی نے کہا کہ کمیشن کو اپنی رپورٹ مکمل کرنے میں چھ سے آٹھ ہفتوں کا وقت لگے گا۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ کمیشن کے لے معاون اویس خالد کے ذریعہ پیش کردہ ٹی او آرز کو بھی دیکھیں۔ انہوں نے مزید اے جی پی سے کہا کہ اگر حکومت کوئی کمیشن تشکیل دینے میں ناکام رہی تو مدعا علیہان کی جانب سے درخواست پر جوابات جمع کریں۔ تاہم اے جی پی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایسا نہیں ہوگا۔ بعد ازاں عدال نے سماعت کو 6 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button