لیگی رہنما خواجہ آصف 26 جون کو نیب میں طلب

قومی احتساب بیورو نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے خلاف سیالکوٹ میں ’غیر قانونی طور پر‘ رہائشی منصوبہ شروع کرنے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں نیب نے خواجہ آصف کو 26 جون کو طلب کرلیا ہےاور لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ ہیڈ کوارٹر میں کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کے سامنے کینٹ ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سیالکوٹ کے امور سے متعلق ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) کو جاری کیے گئے نوٹس میں نیب نے کہا کہ ’اکٹھے کیے گئے شواہد سے بادی النظر یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ (خواجہ آصف) نے کینٹ ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سیالکوٹ کے نام سے رہائشی منصوبہ قائم کیا جو غیر قانونی طور پر چلایا جارہا تھا‘۔ نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ’آپ سے درج ذیل باتوں پر جواب درکار ہے: منصوبے میں آپ، آپ کے اہل خانہ(اہلیہ اور بیٹے) اور دیگر شراکت داروں یا رشتہ داروں کی جانب سے سرمایہ کاری کیے گئے فنڈز کی مقامی مقدار اور ذرائع کیا تھے۔نیب کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف نے سوسائٹی کی انتظامیہ سے ملی بھگت کے ساتھ منظور شدہ 137 کنال کے لے آؤٹ پلان سے زائد کے پلاٹ فروخت کیے۔نیب کا کہنا ہے کہ خواجہ آسف نے ریونیو حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ منظوری حاصل کی حالانکہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ تھا۔
نیب کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیر خارجہ نے سوسائٹی انتظامیہ کی ملی بھگے سے ایسی متعدد زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کیا جن کے مالکان نے وہ زمین کبھی سوسائٹی کو فروخت نہیں کی۔ نیب، قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 18(سی) کے تحت کینٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان، ڈویلپرز کے علاوہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گوجرانوالہ کے سابق ڈائریکٹر شیخ فرید، اے سی ای اے ڈی ای قاسم کے خلاف بھی تحقیقات کررہا ہے۔
نیب کے نوٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’میں اس سلسلے میں اپنا جواب نیب کو جمع کروادوں اور اس معاملے پر میڈیا پر بات نہیں کروں گا‘۔
قبل ازیں نیب نے سیالکوٹ سے ہی تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی شکایت پر خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی تھیں۔عثمان ڈار نے الزام لگایا تھا کہ خواجہ آصف پر الیکشن کمیشن سے آف شور اثاثے چھپانے کا الزام لگیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رہنما مسلم لیگ (ن) ابو ظہبی میں موجود کمپنی سے 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب عدم شواہد کی بنا پر خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات بند کرچکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button