معاون خصوصی ڈاکٹرظفرمرزا نے بھی استعفیٰ دےدیا

ایک گھنٹےمیں وزیراعظم کے2 معاونین خصوصی استعفیٰ دے گئے. وزیر اعظم کی معاون خصوصی تانیہ ایدروس کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے بھی استعفیٰ دےدیا.
مستعفی ہوتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان آیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کوچھوڑ کر پاکستان آیا تھا اور میں نے پاکستان کے لیے محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔ظفرمرزا نے کہا کہ پاکستان کے لیے کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، مطمئن ہوں کرونا کیسز میں کمی کےدوران استعفیٰ دیا۔انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے معاون خصوصی کےعہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، میں مطمئن ہوں کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑا جب پاکستان میں کرونا کم ہو رہا ہے۔ بدھ کو ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اُن کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے بقول وہ کافی عرصے سے مستعفی ہونے کا سوچ رہے تھے، صرف کرونا پر قابو پانے کا انتظار تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیڑھ سال سے پورے خلوص اور ایمانداری سے اپنا کام کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود جھوٹے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا سے بھی استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرظفر مرزا پرالزام ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بارے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے تھے۔ انکوائری کمیٹی کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات پر مطمئن کرنے میں ناکامی پر وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ ان پر 124 ملین روپے کی کرپشن کے الزامات بھی ہیں۔ جس کی انکوائری چل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ظفر مرزا نے بھارت سے خلاف ضابطہ ادویات درآمد کرنے میں کردار ادا کیا، وزیراعظم کے حکم پر انکوائری کے دوران ظفر مرزا اور ایک مشیر کا نام آیا، اس کے علاوہ ظفر مرزا اسلام آباد کےاسپتالوں اور میڈیکل اداروں کےسربراہ تعینات کرنے میں بھی ناکام رہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ادویہ سازکمپنیوں کا ازخود قیمت بڑھانےکا اختیارختم کرنا چاہتے تھے لیکن ظفر مرزا نے ادویہ ساز کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری واپس لے لی تھی، جس کے بعد وزیراعظم کےحکم پر کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری دوبارہ منگوائی گئی۔
ذرائع کے مطابق ظفر مرزانےکابینہ اجلاس میں بھی ادویہ سازکمپنیوں کااختیارواپس لینےکی سمری کی مخالفت کی،وزیراعظم ادویات اسکینڈل کےبعد ظفرمرزا کوپہلے ہی ہٹاناچاہتے تھے لیکن کرونا وائرس کےباعث ایسا نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 9 اگست 2019ء کو بھارت سے درآمدات پر پابندی لگائی تھی اور وفاقی کابینہ کے بجائے وزیراعظم آفس سے 25 اگست کوفیصلے میں ترمیم کرائی گئی جبکہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم آفس منظوری دینے کامجاز نہیں۔ دستاویز کے مطابق مشیر تجارت رزاق داؤد اورمعاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا نے میٹنگ کی اور وزارت تجارت نے 24 اگست کو کابینہ ڈویژن کو فیصلے میں ترمیم کے لیے خط لکھا۔


واضح رہے کہ ایک ہی دن میں وزیر اعظم عمران خان کے 2 معاونینِ خصوصی عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں، اب سے کچھ ہی دیر قبل ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس نے بھی ٹویٹ کے ذریعے خبر دی تھی کہ انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button