فوج کے تراشے ہوئے صنم خدائی کے دعوے کیوں کرنے لگے


معروف لکھاری ہیں اور کئی ناولوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ فوج کے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے صنم خدائی کے دعوے کرنے لگے ہوں۔ اس سے پہلے ہمارے بچپن میں افغانستان میں مجاہدین بنائے گے تھے جو ہمارے گلے پڑ گئے۔ ان سے جان چھڑانے کے لیے طالبان بنائے گے، لیکن ہم ابھی تک ان کی داڑھیوں کو ادب سے ہاتھ لگا کر یاد کراتے ہیں کہ بھائی تمھارا ملک اُدھر ہے اور ہمارا اِدھر، کچھ خیال کرو۔ حنیف کہتے ہیں کہ تحریکِ لبیک ایک شہری قوت کے طور پر تیار کی گئی اس نے ہمارے ہی جرنیلوں اور ججوں کو کافر کافر کہنا شروع کر دیا۔

بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ عمران خان کے حامی جن کے خون کا رنگ سبز تھا اور وہ دور سے فوجی وردی کی جھلک دیکھ کر سلیوٹ مارنے لگتے تھے اب ہر مخالف کو بوٹ پالشیا کہتے ہیں اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے لیے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ اس کو یہاں پر نقل کیا جائے تو شاید کوئی سیکٹر کمانڈر خود ہی ویگو چلا کر حساب کتاب کرنے آ جائے۔ لہٰذا وقت ہوا چاہتا ہے کہ باجوہ صاحب کرسی سے اٹھیں، دفتر کا چکر لگا کر دیکھیں کہ اپنا ڈنڈا کہاں رکھ کر بھول گئے تھے یا اعلان کر دیں کہ چونکہ پانچویں جنریشن وارفیئر میں تھوڑی گڑبڑ ہو گئی اس لیے اب ہم چھٹی اور ساتویں جنریشن والی جنگ شروع کیے دیتے ہیں۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ بزرگوں نے سمجھایا تھا کہ بڑے لوگوں کو کبھی مشورہ نہ دینا، بغیر مانگے تو بالکل نہ دینا اور اگر کبھی مانگیں بھی تو مومنوں کی طرح تکا لگانا کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں پھر انکے دل کی خواہش کو گول مول کر کے اسے ہی مشورے کی شکل دینا تا کہ انھیں ایسا لگے کہ بس ان کے دل کی بات آپ نے کر دی ہے۔

حنیف کہتے ہیں کہ باجوہ برادری سے میری بچپن کی دوستیاں ہیں، مین نے ان کے ساتھ رہ کر بھی یہی سیکھا ہے کہ باجوہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے مشورہ نہیں دینا چاہیے کیونکہ جو آپ مشورہ دیں گے وہ اس کا بالکل الٹ کرے گا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے بزرگوں کی تعلیم اور اپنے ذاتی تجربے کے باوجود کوئی تین سال پہلے جنرل باجوہ کو مشورہ دے ڈالا۔ ان کی ایکسٹینشن ابھی اسلام آباد کی پارٹیوں میں افواہ کی صورت میں زیر بحث تھی، بیچ منجھدار کے گھوڑے نہیں بدلا کرتے والے فلسفے ابھی بازار میں نہیں آئے تھے۔ میں نے فوج کی عقیدت اور جنرل باجوہ کی محبت میں مغلوب ہو کر ایک تحریر میں مشورہ دے ڈالا کہ جنرل باجوہ ایکسٹینشن نہ لیں، اور اپنا سپہ سالار والا ڈنڈا اپنے جانشین کے حوالے کریں، پھر اس اطمینان کے ساتھ گالف کھیلیں کہ یہ ڈنڈا ان کے بغیر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چلتا رہے گا۔

لیکن دوسری جانب جنرل باجوہ نے اپنا ڈنڈا ابھی گھمایا بھی نہیں تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود ساری پارٹیوں نے یکجا ہو کر، ان کی ایکسٹینشن کی منظوری دے دی۔ اب صرف اتنی بحث باقی ہے کہ یہ منظوری تیرہ منٹ میں دی گئی یا سترہ منٹ میں۔ محمد حنیف کے بقول جو سپہ سالار اپنے آپ کو خود ایکسٹینشن دیتے ہیں وہ امر ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جنرل ایوب، جنرل ضیا، اور جنرل مشرف نے ایکسٹینشن نہیں مانگی تھی۔ جو سیاسی حکمرانوں سے ایکسٹینشن لیتے ہیں، چاہے وہ ڈنڈے کے زور پر ہی لیں، ان کے ساتھ بےعزتی پروگرام والا ماحول بن جاتا ہے۔ حنیف کا کہنا ہے کہ باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن کا زمانہ ففتھ جنریشن وار فیئر کے عروج کا زمانہ تھا۔ فوج کے بالغوں نے نوجوانوں کی ایک فوج اصلی فوج کے باہر بھرتی کرائی تھی جو ہر مخالف رائے رکھنے والے کو غدار، لفافے، اور پالتو جانور سے تشبیہہ دے کر بات شروع کرتی تھی اور ماں بہن کی گالی پر ختم کرتی تھی۔

سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی اسی فوج کی کمان اب پتا نہیں کس کے ہاتھ میں ہے لیکن اس میں ایسی بغاوت پھیلی ہے کہ جن ناموں سے یہ کبھی حامد میر کو پکارا کرتے تھے اب وہی ناشائستہ اور بھدے الفاظ ہمارے سپہ سالار کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ بقول حنیف، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے ڈنڈا گھمایا یا ڈنڈا ایک سائیڈ پر رکھ کر ٹانگیں میز پر پھیلائیں، انگڑائی لی اور کہا میں ذرا تھک گیا ہوں اب تم لوگ آپس میں ہی نمٹ لو۔ لیکن ان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ باقی تو ہم آپس میں نمٹ لیں گے لیکن یہ جو آپ نے ففتھ جنریشن والے تیار کیے تھے ان کا کیا کرنا ہے۔ وہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ان کو ہماری ٹکر کے پہلی دفعہ ملے ہیں اور ہماری اصلی اور وڈی فوج کی یہ حالت ہے کہ انھیں بتانا پڑتا ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے کا فلاں سیکٹر کمانڈر تو اپنے سیکٹر میں تھا ہی نہیں تو اس پر الزام کیوں لگا رہے ہو اور الزام بھی ایسے کے جیسے سیکٹر کمانڈر اپنے ہاتھوں سے فون کالیں ریکارڈ کرنے والے آلے نصب کرتا ہو یا کسی کو اٹھانے کے لیے خود ویگو چلا کر جاتا ہو۔مختصر یہ کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ فوج کے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے صنم خدائی کے دعوے کرنے لگے ہوں۔

Related Articles

Back to top button