پاکستان یورپی ممالک سے فضلہ کیوں امپورٹ کر رہا ہے؟


پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جس سے اپنے ملک میں پیدا ہونے والوں کچرا کنٹرول نہیں ہو پا رہا، ہر سال 80 ہزار ٹن فضلہ باہر کے ممالک سے امپورٹ کرتا ہے جا کہ حیران کن ہے، حالانکہ اس عمل سے یہاں ماحولیات اور صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں، جبکہ زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کو بتایا گیا کہ 2020 میں فضلے سے لدے 624 کنٹینرز برآمد کرنے والوں نے سارا فضلہ پاکستان کے ساحل پر بکھیر دیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ہر سال 80 ہزار ٹن فضلہ درآمد کرتا ہے، فضلہ ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں برطانیہ سب سے ٹاپ پر ہے جو ہر سال 40 ہزار ٹن کچرا پاکستان بھجواتا ہے، اسکے علاوہ ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو پاکستان کچرا بھجواتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ کروڑ ٹن سولڈ ویسٹ بنتا ہے اور سالانہ 2.4 فیصد کے تناسب سے فضلہ بڑھ رہا ہے، لیکن اس فضلے کے استعمال یا اسے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے کوئی مربوط پالیسی نہ ہونے کے باعث یہ فضلہ یا تو جلا دیا جاتا ہے، یا پھر خالی جگہوں پر پھینک دیا جاتا ہے، کسی پالیسی کے نہ ہونے کے باعث یہی فضلہ عوام کی صحت اور ویلفیئر کے لیے خطرہ ہے۔ ہر سال ری سائیکل شدہ فضلے سے بھرے ہزاروں شپنگ کنٹینر امیر ممالک سے ترقی پزیر ممالک برآمد کیے جاتے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان امیر ممالک کے لیے بھی ری سائیکل کرنے کا ڈھانچہ لگانا مہنگا اور اس فضلے کو برآمد کرنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ اس قسم کی برآمدات میں حالیہ دہائیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اکیسویں صدی میں یورپی یونین سے برآمد کیے جانے والے فضلے میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امیر ممالک سے ترقی پذیر ممالک فضلے کی برآمد کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن امیر ممالک کی جانب سے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی پالیسی کے باعث تشویش ناک ماحولیاتی آلودگی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کا شمار 25 سال تک فضلے کے سب سے بڑے درآمد کنندہ ملک میں ہوتا تھا، چین پلاسٹک کے فضلے کا 70 فیصد درآمد کیا کرتا تھا، لیکن 2017 میں چین نے مخصوص قسم کے فضلے کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا آغاز کیا اور ایک ہی سال بعد ’نیشنل سورڈ‘ یعنی قومی تلوار نامی پالیسی کے تحت زیادہ تر پلاسٹک کے فضلے کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ یوں چین کو فضلہ بیچنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، اس نئی پالیسی کے نتیجے میں چین کو فضلے کی برآمد 15 لاکھ ٹن سے کم ہو کر 51 ہزار ٹن رہ گئی۔ 2020 میں فضکے کے برآمد مزید کم ہو کر محض چار ہزار میٹرک ٹن رہ گئی، اسی طرح امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں بھی فضلے کے انبار لگنے لگے ہیں۔ چین کی جانب سے سختی کے بعد ان ممالک نے اپنا فضلہ ملائیشیا، ترکی، تھائی لینڈ اور ویتنام برآمد کرنا شروع کیا، 2020 تک ملائیشیا امریکہ کا 30 فیصد پلاسٹک فضلہ برآمد کرتا تھا جبکہ ترکی یورپی یونین کے فضلے کا بہت بڑا درآمد کرنے والا ملک بن گیا، ترکی 18 ہزار میٹرک ٹن سے سات لاکھ میٹرک ٹن فضلہ درآمد کرنے لگا، برطانیہ اپنا 40 فیصد پلاسٹک فضلہ ترکی برآمد کرتا تھا۔

لیکن یہ تمام ممالک اپنے زیادہ فضلے کو ٹھیک طریقے سے ٹھکانے لگانے میں قاصر رہے۔ دوسری جانب روز نیا فضلہ ان ممالک میں پہنچ رہا تھا، اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ملائیشیا نے فضلہ واپس بھیجنا شروع کر دیا، ترکی کا حال بھی کچھ پاکستان والا ہی حال ہوا، یورپی یونین سے آنے والا فضلہ اکثر ساحل سمندر پر بکھرا ہوا پایا جانے لگا یا پھر اسے سڑک کنارے آگ لگا دی جاتی تھی، نتیجتاً ترکی سے پلاسٹک کے فضلے کی درآمد پر سال 2021 میں پابندی لگا دی گئی۔

Related Articles

Back to top button