35 پاکستانی طلبا یوکرائن سے پولینڈ منتقل

یوکرائن میں واقع پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے پیش نظر تقریباً 35 پاکستانی طلبا کو یوکرائن سے پولینڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایک طالب علم کے پیغام کے مطابق، ان کے کچھ ساتھی یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف سے پولینڈ جانے والی ٹرین میں سوار ہو گئے ہیں، یہ ٹرین روسی حملے سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے شہریوں کو منتقل کر رہی ہے، خارکیف شہر میں تقریباً 300 پاکستانی طالب علم موجود ہیں، پاکستانی طلبہ کا ایک اور بڑا گروپ دارالحکومت کیف میں بھی مقیم ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات سے روز کے یوکرائن پر حملے کرنے کے بعد سے تقریباً ایک ہزار 500 پاکستانی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں ان میں 500 طلبا بھی شامل ہیں، کچھ افراد روسی حملوں سے قبل ہی ملک چھوڑ گئے تھے، سفارتخانے نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ ان طلبہ کے انخلاء میں سہولت فراہم کر رہے ہیں اور انہیں وارسا پہنچانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے مزید 35 سے 40 طلبا پر مشتمل ایک اور گروپ خارکیف سے ترنوپل کے راستے ہیں اور امید ہے کہ یہ ہفتے کی دوپہر تک پہنچ جائیں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سفارت خانے کو عارضی طور پر کیف سے پولینڈ کی سرحد پر واقع ترنوپل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انخلاء میں آسانی ہو۔ سفارت خانےکی جانب سے طلباء کو ترنوپل پہنچنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاہم، سوشل میڈیا پر پیغامات میں طلباء نے سوال کیا کہ وہ ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی اور سیکیورٹی کی ناگفتہ بہ حالت میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کیسے کر سکتے ہیں، سفارت خانے سے رابطہ کرنے میں مشکلات کی شکایت بھی کی۔

صحافی اطہر متین کو قتل کرنیوالے مرکزی ملزم گرفتار

قبل ازیں سوشل میڈیا پر طلبا اور دیگر پاکستانیوں کی جانب سے انخلاء میں مدد کی اپیل کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں، دریں اثنا، دفتر خارجہ نے پولینڈ، رومانیہ اور ہنگری میں پاکستانی سفارتخانوں کو یوکرین سے باہر نکلنے والے پاکستانیوں کی مدد کرنے کی ہدایت دی تھی۔ دریں اثنا، پی آئی اے کے سربراہ ریٹائرڈ ائیر مارشل ارشد ملک نے یوکرین میں پاکستان کے سفیر ریٹائرڈ میجر جنرل نوئل کھوکھر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور وہاں پھنسے پاکستانی طلبا کو نکالنے سے متعلق مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان طلبا کو واپس لانے کے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبا ترنوپل میں جمع ہوں گے اور انہیں زمینی راستے سے پولینڈ پہنچایا جائے گا، جہاں سے انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان لایا جائے گا۔اس سے قبل ایک ٹوئٹ میں پی آئی اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ فی الحال یوکرین میں ہوائی سفر پر پابندی ہے، لیکن پاکستانی طلبا کے باحفاظت انخلا کے لیے مختلف طریقوں پر کام کیا جارہا ہے، میں نے یوکرین میں موجود ہمارے سفیر ہی جنرل نوئل سے بات کی ہے، وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ سفارت خانے میں چوکنا ہیں، پی آئی اے کے ذریعے ہمارے طلبا کو باہر نکالنے کی طریقہ کار کر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہوائی سفر پر پابندی ہے لیکن انشااللہ ہم راستہ تلاش کریں گے۔

Related Articles

Back to top button