” دلبرداشتہ عامر لیاقت پاکستان چھوڑ کر مراکش منتقل ہونے والے تھے ”

مرحوم رکن قومی اسمبلی اور ٹی وی میزبان عامر لیاقت حسین سوشل میڈیا پر وائرل ہو جانے والی اپنی نازیبا ویڈیو سے اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے پاکستان چھوڑ کر مراکش میں گمنامی کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر فرشتہ اجل نے انہیں یہ موقع ہی نہ دیا ۔ ملک کی ممتاز کاروباری شخصیت اور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ نے اپنے تازہ کالم میں بتایا ہے کہ عامر لیاقت سے میرے دیرینہ دوستانہ تعلقات تھے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب جیو ٹی وی کا ’’عالم آن لائن‘‘ پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مذہبی پروگرام تھا، جس کے میزبان عامر لیاقت عوام میں مقبولیت کی انتہا کو چھورہے تھے جبکہ پاکستان کے بڑے بڑے علماء اس پروگرام میں شرکت کرتے تھے۔ اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ میری والدہ محترمہ بھی ’’عالم آن لائن‘‘ کی وجہ سے عامر لیاقت حسین کی بہت مداح تھیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ میں عامر لیاقت حسین سے ان کی ملاقات کراؤں ۔

ملائیکا اروڑا کم عمرمردوں کی دیوانی کیوں ہیں؟

مرزا اشتیاق بیگ بتاتے ہیں کہ ایک ملاقات میں جب میں نے اُنہیں اپنی والدہ کی اُن سے عقیدت اور خواہش کا ذکر کیا تو ایک دن عید کے موقع پر عامر لیاقت اپنی اہلیہ بشریٰ کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے۔ عامر لیاقت کو دیکھ کر والدہ محترمہ بہت خوش ہوئیں ، اُنہیں گلے لگاکر ماتھا چوما، ڈھیر ساری دعائیں دیں اور عید کی مناسبت سے عامر لیاقت اور بشریٰ بھابھی کو عیدی دی۔ عامر لیاقت بھی میری والدہ سے ملاقات کو کبھی نہیں بھولے۔ وہ اکثر رمضان المبارک کے خصوصی پروگراموں میں مجھے مدعو کرتے اور والدہ محترمہ سے ملاقات اور عیدی کا ذکر کرتے تھے۔

مرزا اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ اپنے عروج کے زمانے میں عامر لیاقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوکر مشرف کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر مملکت برائے مذہبی امور مقرر ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب عامر لیاقت ایک عہد، ایک دور، ایک برانڈ کا نام تھا ۔ وقت گزرتا گیا اور عامر لیاقت بھی ترقی کی منازل طے کرتے کرتے دولت اور شہرت کی بھول بھلیوں میں کھوگئے۔

کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو شہرت اور دولت سے نوازتا ہے تو اُسے برقرار رکھنا انسان کیلئے بہت مشکل ہوجاتا ہے، شہرت اور دولت کی چکا چوند اسے بہکانے کے ساتھ حاسدین بھی پیدا کردیتی ہے۔ یہی کچھ عامر لیاقت کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے اپنی نجی زندگی میں کچھ ایسی غلطیاں کیں جس کی قیمت اُنہیں موت کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔

مرزا اشتیاق بیگ بتاتے ہیں کہ عامر لیاقت اپنی تیسری اہلیہ کے رویے سے بہت زیادہ دلبرداشتہ تھے جنہوں نے سوشل میڈیا پر اُن کی کردار کشی کی جس سے عامر لیاقت کو شدید صدمہ پہنچا۔ اس بات کا ذکر انہوں نے مجھ سے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کیا تھا۔ اپنی موت سے کچھ روز قبل عامر لیاقت نے مجھے واٹس ایپ پر وائس میسج بھیجا جو آج بھی میرے موبائل میں موجود ہےانہوں نے لکھاکہ ’’اشتیاق بھائی، میرے ساتھ جو کچھ ہوا اور میری ویڈیو جس طرح سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، حکومت کے کسی ادارے نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے میں بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوں اور میں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، میں مراکش سیٹل ہوکر اپنی بقیہ زندگی گمنامی میں گزارنا چاہتا ہوں، آپ مراکش کے اعزازی قونصل جنرل ہیں، مجھے اس سلسلے میں آپ کی مدد درکار ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’آپ اسلام آباد سے کراچی آئیں تو ہم ملاقات کرتے ہیں، مراکش سیٹل ہونے کیلئے آپ کو میرا ہر طرح کا تعاون حاصل ہوگا جہاں میرا گھر بھی ہے، آپ جب تک چاہیں، وہاں قیام کرسکتے ہیں۔‘‘

میں نے فیصلہ کیا تھا کہ عامر لیاقت سے ملاقات کرکے اُنہیں ہر ممکن مدد فراہم کروں گا لیکن افسوس کہ مراکش کے سفر پر جانے سے پہلے ہی وہ موت کے سفر پر رخصت ہوگئے۔ عامر لیاقت کی موت کی خبر مجھے ہالینڈ میں ملی جب میں میک اے وش فائونڈیشن انٹرنیشنل کی سالانہ کانفرنس اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ اٹینڈ کررہا تھا۔

اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ عامر لیاقت ایک عہد، ایک دور اور ایک برانڈ کا نام تھا، وہ اِس قدر خوش قسمت تھا کہ اُس کیلئے خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ کے دروازے کھولے گئے اور بدقسمت اتنا کہ اُسے اپنی ہی محرم نے دنیا میں برہنہ کردیا۔ عامر لیاقت آج ہم میں نہیں۔ اگر ہم اُن کی نجی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو اُن کی شخصیت سے الگ کرکے دیکھیں توپاکستان ایک اچھے مقرر اور مذہبی اسکالر سے محروم ہوگیا۔ ہم نے اُنہیں دنیا میں تو سکون سے رہنے نہیں دیا اورشاید اب دنیا سے جانے کے بعد بھی اُنہیں سکون نصیب نہیں۔

Related Articles

Back to top button