کراچی کے ساحل سمندر پر اونٹوں اور گھوڑوں پر پابندی

جہان کراچی کے ساحل سمندر کا قدرتی ماحول لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، وہیں اونٹوں اور گھوڑوں کی سواری بھی ساحل کا رخ کرنے والے بچوں، اور بڑوں کو بھرپور مزہ دیتی ہے، لیکن اب یہ سہولت اچانک ختم کر دی گئی ہے، کلفٹن ساحل کے ساتھ چھوٹے شیڈز کے نیچے بڑی تعداد میں اونٹ اور چند گھوڑے پیروں میں لوہے کی لمبی رسی سے بندھے نظر آتے ہیں۔ کچھ اونٹ ریتلی مٹی میں اُگنے والی کانٹے دار جھاڑیاں چباتے اور کچھ اونٹ پیاس بجھاتے نظر آتے ہیں، اونٹوں کے لیے ری سائیکل ہونے والے پانی کے ڈرم استعمال کے جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ساحل سمندر پر اونٹ اور گھوڑا سواری پر پابندی کے بعد ان غریبوں کی معمولی آمدنی کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ اونٹ اور گھوڑے کے مالکان کو علاقے میں قدرتی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے 4 ہزار چارے پر جبکہ 5 سو رو

پے پانی کا خرچ اٹھانا پڑتا ہے۔ دراصل اونٹوں کے تمام مالکان پیسے جمع کر کے 5 ہزار گیلن میٹھے پانی کا ٹینکر منگواتے ہیں جس کی قیمت 8 سے 10 ہزار روپے ہے۔ اونٹ مالکان کے مطابق اب جانوروں اور اہل خانہ کی خوراک پوری کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔

آئین شکن قاسم سوری قومی اسمبلی میں گند ڈالنے پر مصر

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے ترجمان نے بتایا کہ ساحل سمندر پر اونٹوں اور گھڑ سواری پر پابندی کی وجہ غیر ملکوں سے زیادہ کرایہ وصول کرنا نہیں تھیں، البتہ یہ ایک وجہ ضرور تھی، گھوڑوں اور اونٹوں پر پابندی لگانے کی اہم وجہ یہ ہے کہ سی بی سی ساحل سمندر پر پارکوں کی تعمیر کر رہا ہے جس سے جانوروں کے مالکان کو مسئلہ ہے، بعدازاں غیر ملکی سیاح کے واقعے کو مدنظر رکھ کر بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اونٹ مالکان کو صرف سی ویو ساحل سے ہٹایا ہے جو ہمارے دائرہ اختیار میں آتا ہے، لیکن باقی جگہ وہ کام کر سکتے ہیں، کلفٹن میں متعدد پارکس ہیں جو خالی رہتے ہیں اور سی ویو کی طرح مقبول نہیں ہیں، اس موقع پر ان لوگوں اور ان کے جانوروں کے آنے پر ’’عدم برداشت‘‘ ہے لیکن سی ویو پر ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس لانے پر غور کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button