دعا زہراء نے اپنے باپ پر سنگین الزامات عائد کر دیے

کراچی سے فرار ہو کر لاہور میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرا نے کہا ہے کہ وہ گھر سے اس لیے بھاگی کہ اس کے والد اس کے تایا کا ایک کنال کا پلاٹ قابو کرنے کے لیے اسکی شادی اپنے بھتیجے سے کروانا چاہتے تھے۔ ایک انٹرویو میں دعا نے بتایا کہ اسکے والدین اس کے تایا کے بیٹے زین العابدین سے اسکی شادی کروانا چاہتے تھے کیوں کہ تایا کے پاس ڈی ایچ اے میں ایک پلاٹ تھا جس پر والد اور تایا میں مسئلے چل رہے تھے۔ اس نے کہا کہ میرے والد چاہتے تھے کہ میری شادی کے نتیجے میں تایا کا پلاٹ انکے نام ہو جائے۔ جب میں نے والد کو انکار کیا تو انہوں نے مجھے مارا پیٹا اور دھمکی دی کہ میں تمہیں قتل کردوں گا، میرے ماموں نے بھی مجھے دھمکی دی کہ ہم تمہاری شادی اپنی مرضی سے کریں گے۔ جب میں نے اپنے والدین کو بتایا کہ ظہیر میرا رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں تو والدہ نے مجھے مارا اور میرا ٹیبلٹ جس پر ظہیر سے بات ہوتی تھی وہ چھین لیا اور مجھے مجبور کیا جانے لگا جس کے بعد میں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی اور گھر سے بھاگ گئی۔

فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی نے متفرق درخواست جمع کرادی

کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا نے والدہ کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی ملاقات کی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ میں نے عدالتی پیشی کے موقع پر والدہ سے یہ نہیں کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، والدہ نے جج کو جھوٹ بولا۔ دو ماہ بعد والدین سے ہوئی ملاقات بارے دعا زہرا کا کہنا تھا کہ والدین مجھے ملاقات کے دوران کہتے رہے کہ جج سے کہو کہ آپ ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتی۔
دعا کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ اگر آپ میری واپسی چاہتی ہیں تو میرے شوہر سے صلح کر لیں تاہم والدہ کا کہنا تھا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے، بس آپ جج سے وہ کہو جو ہم کہہ رہے ہیں جس پر میں نے انکار کر دیا لیکن والدین نے جج سے جھوٹ بولا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

دعا نے کہا کہ مجھے کسی نے کوئی نشہ نہیں دیا، نہ بلیک میل کیا اور نہ ہی زبردستی کوئی بیان دلوایا گیا، میں نے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کا فیصلہ کیا۔ کراچی سے لاہور پہنچنے سے متعلق سوال پر دعا نے بتایا کہ ظہیر اور ان کی فیملی میں سے کسی کو یہ نہیں پتا تھا کہ میں آنے والی ہوں، میں خود اپنے گھر سے رکشہ لے کر ٹیکسی اسٹینڈ تک آئی اور پھر ڈرائیور سے کہا کہ وہ مجھے لاہور تک چھوڑ دے جس کا کرایہ 22 ہزار تھا۔ میرے پاس چونکہ پیسے نہیں تھے اس لیے میں نے ڈرائیور کو کہا کہ وہ مجھے لاہور لے چلیں میں وہیں کرایہ ادا کروں گی جوکہ ظہیر نے میرے پنجاب پہنچنے پر ادا کیا۔ دعا کے مطابق کیونکہ میں ایک اسلامی کام کے لیے پنجاب آ رہی تھی اور سوچا ہوا تھا کہ مجھے شادی کرنی ہے لہٰذا لاہور تک باحفاظت پہنچنے پر بھی مجھ پر اللہ کا خاص کرم رہا، انہوں نے بتایا کہ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی پہنچ کر میں نے ایک اسٹوڈنٹ سے فون مانگا جس سے میری ظہیر سے بات ہوئی۔ جب ہم ملے تو ظہیر بھی خوش ہو گئے جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم فوری نکاح کریں گے۔

دعا کا کہنا تھا کہ انکے والدین نے پاسپورٹ پر جان بوجھ کر اسکی عمر دو برس کم لکھوائی، کیونکہ میری اصل عمر 17 سال ہے۔ اس نے کہا کہ میری جو عمر میڈیکل ٹیسٹ میں آئی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ دعا زہرا نے اپنے والدین سے کہا کہ میں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی جس پر معافی مانگتی ہوں لیکن درخواست کرتی ہوں کہ والدین دل بڑا کر کے مجھے اور ظہیر کو قبول کر لیں۔

ظہیر احمد نے بتایا کہ میں نے حال ہی میں پنجاب سے ایف ایس سی پری میڈیکل کیا ہے اور میں اس کے علاوہ موبائل کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا ہوں۔ اس نے بتایا کہ وہ دعا سے ’پب جی‘ پر ملے جس کے بعد بات چیت شروع ہو گئی لیکن پھر دعا کے گھر والوں نے اس کے گیم کھیلنے پر پابندی لگا دی۔ چنانچہ ہمارے پاس شادی کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

Related Articles

Back to top button