بینظیرکا دوچیزیں میں کوئی مقابلہ نہیں،جسنڈا آرڈرن کا خراج عقیدت

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈن پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ،پیپلز پارٹی کی سابق چیئرمین بینظیر بھٹو کی مداح نکلیں، بے نظیر بھٹو کی جمہوریت کی مضبوطی کے سیاسی نظریے کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ان سے متعلق دو باتیں کبھی جھُٹلا نہیں سکتی۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں گرایجوایٹس کی تقریب میں 32 ہزار شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جسنڈا آرڈرن نےسابق پاکستانی وزیراعظم کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی ملاقات کی یادیں بھی شیئر کیں، تقریبا 27 منٹ دورانیے کی تقریر کے دوران جیسنڈا آرڈرن نے دنیا بھر میں سیاسی بھونچال اور جمہوریتوں پر پابندیوں اور قدغن سمیت سماجی مسائل اور صنفی مساوات پر بات کرنے کے علاوہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی نظریے پر بھی گفتگو کی۔

نیوز لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی نیوزی لینڈ کے قدیم قبائلی افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے ان کی مقامی زبان میں بات بھی کی۔

اس کے بعد انہوں نے بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے قبل پاکستان کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم نے بھی ہارورڈ یونیورسٹی کے اسی فیسٹیول سے 1989 میں خطاب کیا تھا، جس دوران انہوں نے جمہوریتوں کو درپیش مسائل پر بات کی تھی،آج بھی دنیا بھر میں جمہوریتوں پردباؤ ہے اور ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ جمہوریتیں کمزور پڑ سکتی ہیں، وہ ختم کی جا سکتی ہیں۔

جسنڈا آرڈرن نے کہاانہوں نے پاکستان کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم سے متعدد سیاسی مسائل پر بات کی تھی مگر بدقسمتی سے انہیں قتل کردیا گیا، لیکن کچھ بھی ہوجائے تاریخ ان کے حوالے سے دو باتیں کبھی رد نہیں کر سکتی۔

انکا کہنا تھاایک تو تاریخ یہ بات نہیں بھلا سکتی کہ بے نظیر بھٹو مسلم ممالک کی پہلی منتخب مسلمان خاتون وزیر اعظم تھیں اور دوسری یہ کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ پر رہتے ہوئے دنیا میں پہلی بار بچے کو جنم دیا تھا، بے نظیر بھٹو ایک ایسے ملک میں وزیر اعظم بنیں، جہاں خواتین سیاست میں کم ہی آتی ہیں،بے نظیر کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے دوران بچے کو جنم دینے کے 30 سال بعد وہ دنیا کی دوسری خاتون بنیں جنہوں نے بچی کو جنم دیا،اس سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ جس دن ان کے ہاں 21 جون کو بیٹی کی پیدائش ہوئی، وہی دن بے نظیر بھٹو کا جنم دن بھی ہے۔

یادرہے کہ انہوں نے 2007 میں بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی اور ان سے ملاقات کے سات ماہ بعد انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

دوسری طرف نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی جانب سے بے نظیر بھٹو کی تعریفیں کیے جانے پر پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کی تعریفی ٹوئٹ کی، جسے وزیر خارجہ اور بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے بھی ری ٹوئٹ کیا۔

کپتان کے ساتھیوں نے پنجاب میں سیاسی بحران سنگین کر دیا

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے والدہ کی تعریفیں کرنے پر جیسنڈا آرڈرن کا شکریہ بھی ادا کیا اور ساتھ ہی لکھا کہ بے نظیر کو مارا جا سکتا ہے مگر ان کے وژن کو ختم نہیں کیا جا سکتا، ان کے علاوہ بھی دیگر شخصیات اور سماجی افراد نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تعریفیں کیں۔

Related Articles

Back to top button