عید قربان کے جانوروں کی قیمتیں آسمان پر کیوں پہنچ گئیں؟

سال بھر عیدالاضحٰی کا انتطار کرنے والے بیوپاری اپنے جانوروں کی لمپی وائرس سے ہلاکتوں کے باعث نہ صرف پریشانی سے دوچار ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے نقصان کے ازالے کے لیے ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں جس کا خمیازہ عام صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
لاہور کی منڈی میں جانور لانے والے ایک بیوپاری نے بتایا کہ سارا سال عید قرباں کا انتظار کرنے والا فارمر اور بیوپاری دونوں ہی اس سال پریشان ہیں، پاکستان کے مختلف صوبوں میں بڑے جانوروں کی کثیر تعداد جن میں گائے، بیل اور ان کی اقسام شامل ہیں لمپی وائرس کا شکار ہیں۔ سندھ سے شروع ہونے والی یہ بیماری ملک کے دیگر حصوں میں پھیل چکی ہے جو مویشیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ اس بیماری کا شکار ہونے سے ہزاروں کی تعداد میں جانور اب تک مر چکے ہیں اور لاکھوں جانور اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
فورٹ عباس سے اپنے 12 جانور شیخوپورہ منڈی میں لانے والے غریب بیوپاری اکرم کا ایک جانور بھی لمپی وائرس کا شکار ہو کر مر گیا۔ اکرم کو نہیں معلوم کہ ان کے جانور کو یہ بیماری کیسے ہوئی تاہم وہ اس بیماری کے بارے میں جانتے ضرور تھے، اکرم کے مطابق جانور کے مرنے سے انھیں کم از کم دو لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ شیخوپورہ بکر منڈی کے انچارج ڈاکٹر عتیق نے بتایا کہ ہم نے تقریباً 100 جانور منڈی میں داخل نہیں ہونے دیئے جو لمپی بیماری کا شکار تھے۔ تاہم اکرم جیسے لوگ جو کئی سو کلو میٹر کا سفر کر کے آتے ہیں اور فوری طور پر واپس نہیں جا سکتے ان کے لیے منڈی میں الگ جگہ مختص کر دی گئی ہے جہاں بیمار جانوروں کو قرنطینہ کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں نورعالم کا جھگڑا کیوں ہوا؟

محکمہ لائیو سٹاک پنجاب سے منسلک اور کمپی وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر رحمان نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ بیماری پاکستان میں انڈیا سے آئی ہے جبکہ پنجاب میں یہ بیماری سندھ سے پہنچی ہے، مارچ 2022 میں پنجاب میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا اور اب تک پنجاب میں متاثرہ جانوروں کی کل تعداد تقریباً گیارہ ہزار ہے اور مرنے والے جانور لگ بھگ پچاس ہیں۔ کمیشنر بہالپور ڈویژن راجہ جہانگیر انور نے بتایا کہ ہم نے کمپیوٹر کی ویکسینیشن کا عمل تیز کرنے کے علاوہ داخلی راستوں پرچیک پوسٹیں بھی بڑھا دی ہیں تاکہ سختی سے اس بیماری کی روک تھام کی جا سکے۔

تحقیق کے مطابق وسطی پنجاب میں بھی یہ بیماری پھیلتی جا رہی ہے کیونکہ عید قرباں کے لیے زیادہ تر بیوپاری اور فارمز والے اپنے جانور ان علاقوں میں بیچنے کے لیے لاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور سمیت دیگر شہروں کی منڈیاں بھی دیکھیں، وہاں اس بیماری کی روک تھام کے لیے کیے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے، ہم نے لاہور کی سب سے بڑی منڈی میں کئی گھنٹے گزارے لیکن وہاں ہمیں نا تو محکمہ لائیو سٹاک کے لوگ دکھائی دیئے اور نا ہی کوئی ڈاکٹر۔ کئی بیوپاریوں اور فارمز والوں کا کہنا ہے کہ ہم بہت پریشان ہیں کیونکہ لوگ اس وہم کا شکار ہیں کہ کہیں یہ بیماری دیگر جانوروں کو نہ لگ جائے۔ تاہم جانوروں کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب کوئی جانور لپمی بیماری سے ٹھیک ہو جائے تو وہ سو فصید قابل خرید ہے اور اس کا گوشت بھی قابل استعمال ہوتا ہے۔ دوسری جانب کئی خریداروں نے بتایا کہ جو لوگ بڑے جانور خریدنا پسند کرتے ہیں، وہ وہی خرید رہے ہیں تاہم جانور کو اچھی طرح سے تسلی کر کے اور دیکھ بھال کر کے خرید رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو چھوٹے جانور خریدنے کو زیادہ ترجح دے رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button