اپنوں کی بے وفائی کا شکار ہونے والے افضال احمد کی داستان غم

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ معروف اداکار اور تماثیل تھیٹر کے مالک افضال احمد عرف افضال چٹا دسمبر 2022 میں انتقال سے پہلے مفلوج ہونے کے باعث 20 برس سے وہیل چئیر پر زندگی گزار رہے تھے اور ان کے بیوی بچے انکی معذوری کے باعث ایک عرصہ پہلے انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔

فالج کے بعد اپنوں کی بے وفائی سے رنجیدہ افضال احمد آخری دنوں میں ملنے والوں کو گلے لگا کر کبھی روتے تو کبھی اونچی آواز میں ہنسنے لگ جاتے تھے۔ کبھی وہ وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے اپنے دونوں بازو اُٹھا اکر اوپرے دھڑ کو گھما کر ناچنے کی کوشش کرتے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اپنے زمانے کا ورسٹائل اداکار جو اپنی رعب دار آواز کی وجہ سے جانا جاتا تھا، زندگی کے آخری بیس سالوں میں بول بھی نہیں سکتا تھا۔

وہیل چیئر پر بیٹھے افضال احمد صرف اشاروں میں بات کرتے اور اشاروں کی بات ہی سمجھتے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کی بیوی اور بیٹیاں انہیں چھوڑ کر جا چکی تھیں۔ انہیں مرشد مرشد کہنے والوں نے بھی کبھی پلٹ کر انکی خبر نہیں لی تھی، انہیں ہر وقت شاہ جی شاہ جی کہنے والے بھی انہیں بھول چکے تھے۔

سید افضال احمد المعروف افضال چٹا جھنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ سید گھرانہ، ایچی سن کی تعلیم، پرکشش شخصیت، شوبز کا شوق، لیکن گھرانہ چونکہ مذہبی تھا اس لیے خاندان کی مخالفت کے باعث افضال گھر بار چھوڑ کر شوبز کی دنیا میں آگئے۔ اشفاق احمد کے ڈرامے اُچے برج لاہور دے  میں 18سالہ افضال احمد نے 50 سالہ بوڑھے کا کردار نبھایا، پھر منو بھائی کے ڈرامے جزیرہ میں کمال اداکاری کی۔ اس کے بعد انہیں دھڑا دھڑ فلمیں ملنا شروع ہو گئیں، اہنے 35 سالہ فلمی کیریئر میں اردو، پنجابی، اور پشتو زبانوں میں اڑھائی سو فلمیں کیں۔ بنارسی ٹھگ، جیر ابلیڈ، سیدھا راستہ، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش، وحشی جٹ، چن وریام، ملے گا اور ظلم دا بدلہ جیسی لاتعداد سپر ہٹ فلمیں انڈسری کو دیں۔ 90 کی دہائی افضال احمد کے عروج کا زمانہ تھا، اس کے بعد انہیث مذہب اور صوفی ازم سے لگاؤ ہو گیا۔

انہوں نے درجنوں حج اور عمرے کئے پھر ایک روز اچانک فالج کا شدید اٹیک ہوا، انکی جان تو بچ گئی مگر بولنا بند ہو گیا، وہ معذور ہوگئے اور وہیل چیئر پر آگئے، وہ وفات تک 20 سال وہیل چیئر پر رہے۔ وہ اداکار، ہدایتکار، فلم ساز جو کبھی افضال احمد کے گھر سے اُٹھتے نہیں تھے، ان کے گھر کا رستہ بھول گئے۔ کہتے ہیں کہ اداکار محمد علی جب تک زندہ رہے، ہفتے میں ایک کھانا افضال احمد کے ساتھ کھایا کرتے، اداکار ندیم لاہور آتے تو افضال کو دیکھنے ضرور آتے۔ انہوں نے زندگی کے آخری سال اپنے ملازموں کے ہاتھوں میں گزارے اور انہی کے ہاتھوں میں لاہور کے جنرل ہسپتال میں جان دی۔

مگر افضال احمد اس حال تک پہنچے کیسے، یہ لمبی کہانی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی اتنی خوشحال نہ تھی، رشتے دار لالچی تھے افضال نے اپنی کل جمع پونجی تماثیل تھیٹر کی تعمیر پر لگا دی تھی۔ لیکن یہ منصوبہ جیسا سوچا تھا، ویسے کامیاب نہ ہوسکا۔ افضال جو مزاجاً حساس اور ہمیشہ بانتنے والوں میں سے تھے، مقروض ہوگئے، لوگوں سے ادھار مانگنا پڑا، یوں اپنوں نے آنکھیں پھیر لیں، وہ یہ بات دل ودماغ پر لے گئے۔

برین ہیمرج پلس فالج کا حملہ ہوا، انکا چلنا، پھرنا ختم ہو گیا اور وہ وہیل چیئر پر آگئے۔ اب حکومت بجائے اس کے افضال احمد کا خیال کرتی اور ان کا ساتھ دیتی، ان کے تماثیل تھیٹر ہال کو بند کرنے نکل پڑی۔ آج بھی ایل ڈی اے افضال احمد کے فارم ہاؤس کی آدھی زمین دبا کر بیٹھا ہوا ہے۔ افضال کی طرح اداکار علی اعجاز مرحوم بھی پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتے تھے کہ میرے گھر پر قبضہ گروپ نے قبضہ کر لیا ہے اور حکومتی ادارے کچھ نہیں کر رہے۔ اسی طرح اداکارہ، ہدایتکارہ شمیم آرا بھی سب کو یاد ہیں جنہوں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ ایک زمانے کی بے وفائی کے درجنوں قصے سنائے۔ اداکارہ روحی بانو بھی جوان بیٹے کی موت اور حکومتی بے حسی کے باعث گلی گلی بھٹکیں اور ایک دن ترکی سے ان کے انتقال کی خبر آئی۔ خالدہ ریاست کو بھی اپنوں کی بے وفائی نے کینسر بن کر مار ڈالا تھا۔

افضال احمد کا بھی کیا عروج تھا اور کیا شاندار اداکاری تھی۔ آواز، ڈائیلاگ ڈلیوری، چہرے کے تاثرات، بے رنگ سین میں بھی رنگ بھر دیا کرتے تھے، کیا گرج دار بلکہ پاٹ دار آواز اور بولتی آنکھیں پائیں، یہ تب کی بات جب انکے سٹیج ڈرامے ’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ انہیں تلفظ، مکالمے کا بادشاہ کہا جاتا تھا، اداکاری کرتے، لگتا ہی نہیں تھا اداکاری ہو رہی، وہ ایسے انداز میں مکالمے بولتے کہ مخالف اداکار تک تالیاں بجانے پر مجبور ہو جاتے، لیکن ڈائیلاگ ڈلیوری کا بے تاج بادشاہ افضال احمد اپنوں اور زمانے کی بے اعتنائی پر آنسو بہاتا بے بسی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوا۔

Related Articles

Back to top button