اپنی غلطی تسلیم کرنے پر اداکارہ ریشم کی تعریفیں


دریا میں مچھلیوں کے لیے خوراک پھینکتے ہوئے بے دھیانی میں شاپربھی پھینک دینے پرعوامی تنقید کی زد میں آنے والی اداکارہ ریشم نے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے معافی مانگی تو لوگوں نے ان کے اس عمل کی پذیرائی کی اور اسے ان کا بڑا پن قراردے ڈالا۔

یاد رہے کہ جب ریشم نے دریا میں میں ڈبل روٹی کے ساتھ شو پرپھینکنے والی ویڈیو پوسٹ کی تھی تو لوگوں نے ان کا رگڑا نکال دیا تھا۔ ریشم کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر خوب ٹرولنگ ہوئی جس کے بعد انہوں نے معافی مانگ لی۔ ریشم نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ پچھلے دو مرتبہ کرونا کا شکار ہونے اوراپنے بھائی کی کرونا کے باعث موت کے بعد وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں لہذا ان کی خطاؤں کو درگذر کیا جائے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کی جانب سے معافی مانگنے کے اقدام کو خوب سراہا، اس سے قبل ریشم نے خود پر تنقید کرنے والوں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ لگتا ہے دنیا کی ساری آلودگی کی ذمہ دار میں ہوں۔ اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں ریشم کا کہنا ہے کہ میری معذرت قبول کیجئے جو کچھ بھی ہوا، نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن یہ جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ بے دھیانی اور بے خیالی میں ہوا، پوری قوم سے معافی مانگتی ہوں۔

جذباتی انداز میں دیئے گئے پیغام میں ریشم کا کہنا تھا کہ یہ میرے کیریئر کی سب سے بڑی غلطی ہے، ریشم کی ویڈیو پر تبصرہ کرنے والے افراد نے ان کی وضاحت کو ’’مناسب اقدام‘‘ کہا تو کئی صارفین نے کہا کہ ’ریشم جی اچھا لگا، آئندہ احتیاط کیجئے گا۔

شمع جونیجو نے ان کے پیغام پر تبصرے میں لکھا کہ ریشم یہ تمہارا بڑا پن ہے، عمرچیمہ نے معافی کے انداز کو موضوع بحث بناتے ہوئے لکھا کہ معافی کا وہ انداز جس سے مانگنے والے کا بڑا پن ظاہر ہوتا ہے۔ سید شبیر کاظمی نے ’’غلطی تسلیم کرنے‘‘ پر اداکارہ کو شاباش دی تو زنیرہ راشد نے لکھا کہ لوگ کسی کو معاف نہیں کرتے، اس سے پہلے ریشم نے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دو روز کے لیے چارسدہ گئی تھیں تاکہ سیلاب متاثرین کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں، واپسی پر وہ آبی جانوروں کو چارہ دینے کے لیے رکی تھیں جہاں یہ غلطی ہو گئی۔ ریشم کا کہنا تھا کہ انہیں خود پر ہونے والی تنقید کی پرواہ نہیں ہے، چارسدہ سے واپسی پر خود کو ٹرینڈ کرتا دیکھا تو لگا کہ گویا دنیا کی ساری آلودگی کی ذمہ دار میں ہی ہوں۔ ریشم نے اپنی غلطی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے دو مرتبہ کورونا ہوا جس کے اثرات اب بھی باقی ہیں، میں بھول جاتی ہوں کہ کچھ دیر قبل کیا کیا تھا، اسی لیے میں اندازہ نہیں کر سکی اور پلاسٹک کے تھیلے بھی پانی میں پھینک دیئے۔

Related Articles

Back to top button