ایس ایس پی اسلم چوہدری کی زندگی پر بنائی فلم تیار


کراچی میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو ایس ایس پی ’’چوہدری‘‘ اسلم کے نام سے واقف نہ ہو، جرائم کے سمندر میں ایک ڈولفن کی طرح کودنے والے چودھری اسلم نے بے شمار پولیس مقابلوں اور آپریشنز کے دوران دہشت گردوں سمیت درجنوں جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا، اُن کی جرات مندی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ’’چوہدری ‘‘کے نام سے ایک فلم بنائی گئی ہے۔ ایس ایس پی چوہدری اسلم کی زندگی پر بنی’چوہدری‘ نامی فلم کا ٹریلر جاری کرتے ہوئے اسے 27 مئی کو ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، چوہدری کی شوٹنگ گزشتہ تین سال سے جاری تھی اور رواں برس جنوری میں اس کا مختصر ٹیزر جاری کیا گیا تھا، جس میں آئٹم گانے کی جھلک بھی دکھائی گئی تھی۔
’چوہدری‘ نامی فلم میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کا کردار طارق اسلم ادا کرتے دکھائی دیں گے جبکہ فلم کی دیگر کاسٹ میں شمعون عباسی، یاسر حسین، ارباز خان، عدنان شاہ ٹیپو، زارا عابد اور اصفر مانی سمیت دیگر اداکار بھی شامل ہوں گے۔ چوہدری اسلم کے کردار سمیت ان کا ساتھ دینے والے بہادر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کرداروں کو بھی دکھایا گیا، ٹریلر میں شمعون عباسی اور یاسر حسین کے کرداروں کو بھی دکھایا گیا ہے۔ فلم کی کہانی شروع چوہدری اسلم کی سندھ پولیس میں شمولیت سے ہوتی ہے، جس کا اختتام ان کی شہادت پر ہوتا ہے۔ ’’چوہدری‘‘ کی ہدایات عظیم سجاد نے دی ہے جبکہ کہانی ذیشان جنید نے لکھی ہے اور اسے نیہا لاج نے پروڈیوس کیا ہے، فلم کو ’’لاج پروڈکشن‘‘ کے بینر تلے آئندہ برس مئی میں ریلیز کیا جائیگا۔
یاد رہے کہ چوہدری اسلم نے سندھ پولیس میں 30 سال تک خدمات انجام دی تھیں، 1984 میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی حیثیت سے پولیس فورس کا حصہ بننے والے چوہدری کو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں بھرپور عزائم کی کئی بار قیمت چکانا پڑی، 1998 میں انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور اپنے کام میں پیشہ ورانہ مہارت کے باعث 2005 میں انہیں سپرنٹنڈنٹ کا منصب سونپا گیا تھا۔ 2006 میں لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے بدنام زمانہ ڈکیت مشتاق بروہی کے قتل کے الزام میں انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا، سولہ ماہ تک جیل میں بند رہنے کے بعد دسمبر 2007 میں سندھ ہائی کورٹ نے چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں کو ضمانت پر بری کر دیا۔ ایس پی انوسٹی گیشن شرقی کی حیثیت سے چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں نے لیاری سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن ڈکیت کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا۔ ستمبر 2011 میں وہ ایک بار پھر تب سرخیوں کی زینت بنے جب کراچی کی ڈیفنس سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک حملے میں وہ بال بال بچے۔ اپریل 2012 میں لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے علاقے میں کیے جانے والے محاصرے میں بھی ان کا نام میڈیا میں زیر گردش رہا۔ اپنے پروفیشنل کیریئر میں متعدد مشکلات، کیسز اور تنازعات کا سامنا کرنے والے چودھری اسلم کو 9 جنوری 2014 کو ایک خودکش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ گاڑی میں خودکش مواد ان کے ڈرائیور کی مدد سے نصب کیا گیا تھا جو خود بھی اس حملے میں مارا گیا۔

Related Articles

Back to top button