اینکر پرسن ارضیٰ خان موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟

2016 میں پی ٹی آئی کے جلسے کی کوریج کے دوران کرین سے گرکر شدید زخمی ہونے والی سابق نیوز اینکر، رپورٹر اور صحافی ارضیٰ خان نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کے ساتھ حادثہ پیش آیا تو ان کے ساتھی صحافی ان کی جان بچانے کی بجائے حادثے کی کوریج کرتے رہے۔

ارضیٰ خان نے اپنے یوٹیوب پر ایک مختصر ویڈیو جاری کی، جس میں تین ستمبر 2016 کو اپنے ساتھ پیش آئے واقعے پر پہلی بار کھل کر بات کی، وہ اس دن تحریک انصاف کے رنگ روڈ لاہور پر ہونے والے جلسے کی کوریج کے لیے گئی تھیں کہ اچانک کرین سے گر گئیں، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ تقریبا 20 فٹ اونچی کرین پر چڑھ کر رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ انہیں پہلے ہی محسوس ہو گیا تھا کہ وہ گرنے والی ہیں لیکن نوکری کی مجبوری کی وجہ سے وہ رپورٹنگ کرتی رہیں اور پھر اچانک گر گئیں، انہوں نے بتایا کہ دراصل انکی طبیعت ایک روز پہلے سے خراب تھی کیونکہ انہیں فوڈ پوائزننگ ہو گئی تھی۔ ڈاکٹرز نے انہیں دوائی دے کر آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اگلے روز ہی رپورٹنگ کیلئے پی ٹی آئی کے جلسے پہنچ گئیں کیونکہ انہیں چھٹی نہیں دی گئی تھی۔ ارضیٰ خان کا کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ اینکر پرسن طارق متین بھی تھے، جن کو انہوں نے بتایا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور گر جائیں گی مگر موصوف نے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ آرمی خان نے بتایا کہ اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد انہیں لگا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ کبھی بھی چل نہیں پائیں گی، وہ کئی گھنٹے تک بے حال رہیں، اور انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں اپنے جسم کا حصہ محسوس نہیں ہو رہے تھے۔

لیکن جب ڈاکٹرز نے انہیں چیک کیا اور طبی امداد دی تو وہ بھی حیران رہ گے کہ انہیں کوئی بڑی چوٹ نہیں لگی تھی، لیکن انہیں مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ہفتے لگ گے۔ ارضی خان نے شکوہ کیا کہ وہ اتنے بڑے حادثے سے گزریں مگر اس کے باوجود کیمرہ مین انکی مدد کے لیے آگے بڑھنے کی بجائے اس حادثے کی ریکارڈنگ کرنے میں مصروف رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کرین سے گرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے موت کی خبریں بھی پھیلائی گئیں۔ اسکے علاوہ بعض لوگ ان کے حادثے کی ویڈیو بنا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ ارضیٰ کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی موت کی خبر سننے والے افراد نے جب انہیں زندہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا سے بھی شکوہ کیا کہ کسی نے ان کے بارے میں مصدقہ رپورٹ نہیں چلائی جب کہ بھارتی میڈیا نے ان کے حوالے سے 15 منٹ کی تفتیشی ڈاکومنٹری چلائی اور ان سے بات بھی کی۔ ارضیٰ خان نے بتایا کہ 2016 کے واقعے سے متعلق وضاحت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اب انکی پرانی ویڈیو بارے مزید غلط انفرمیشن نہ پھیلائیں۔

Related Articles

Back to top button