بیوی کے شوہر کو تھپڑ مارنے کو کیسے عام کیا جا رہا ہے؟

پاکستانی ڈراموں میں شوہر کا بیوی کو تھپڑ مارنا کوئی نئی بات نہیں، اکثر ڈراموں میں یہ سینز دیکھے جاتے رہے ہیں لیکن اب حالیہ ڈراموں میں بیوی کے شوہر کو تھپڑ مارنے کو عام کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر پاکستانی ڈرامہ ’’منت مراد‘‘ کا ایک کلپ وائرل ہے جس میں اہلیہ اپنے شوہر کو تھپڑ مارتی ہے، جیو انٹرٹینمنٹ کی ڈرامہ سیریل ’منت مراد‘ میں مراد گھر والوں کے سامنے اپنی اہلیہ منت کو تھپڑ مارتا ہے جس کے جواب میں منت بھی مراد کے منہ پر تھپڑ مار دیتی ہے۔
ڈرامے میں منت کا کردار اقرا عزیز جبکہ مراد کا کردار طلحہ ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر منت مراد ڈرامے کے وائرل کلپ کو شیئر کرتے ہوئے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، کچھ ناظرین کیلئے اہلیہ کا شوہر کو تھپڑ مارنے کا سین تسلی بخش تھا جبکہ بعض نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ایکس ہینڈل اے اے پر وائرل کلپ کے حوالے سے لکھا گیا کہ ’جب مراد نے منت کو تھپڑ مارا تو سب کو عام سی بات لگی لیکن جب منت مراد کو تھپڑ مارتی ہے تو سب حیران ہو جاتے ہیں۔‘ایکس ہینڈل روتھوجاس پر ڈرامے میں تھپڑ کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ ’کیا ہم اس پر بات کر سکتے ہیں کہ پاکستانی ڈراموں میں تھپڑ مارنے کو کیسے عام کیا جا رہا ہے؟‘ مزید لکھا گیا کہ ’آرام سے بات کر کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اہلیہ کو تھپڑ کیوں مارا؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘ پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان نادیہ خان نے ’کیا ڈرامہ ہے‘ پروگرام میں ’منت مراد‘ کے حوالے سے کہا کہ ’منت مراد ڈرامے کو کس زاویے سے دیکھوں سمجھ نہیں آتا۔‘ایکس یوزر زینب مبین الحق نے لکھا کہ ’صحیح ہو گیا، شوہر اہلیہ کو سب کے سامنے رسوا کرے، ہاتھ اٹھائے اور اہلیہ شوہر کہ منہ پر تھپڑ مار دے اور عوام لکھیں سکون آگیا جوابی تھپڑ دیکھ کر، یہی سکھانا ہمیں۔‘ایکس صارف گُل رین نے تھپڑ مارنے کے سین کے حوالے سے لکھا کہ ’یہ تسلی بخش سین تھا۔ کسی کو اپنی اہلیہ کو تھپڑ مارنے کا حق نہیں۔‘مزید لکھا کہ ’اس (مراد) میں فیملی کے سامنے اپنی اہلیہ کے حق میں بولنے کی ہمت نہیں۔ مراد کی فیملی کے تاثرات بدلتے دیکھیں جب منت مراد کو جواب میں تھپڑ مارتی ہے، مراد کو تھپڑ لگنا چاہئے تھا۔‘’انڈین فلموں، ڈراموں اور سیریز کا کانٹینٹ دیکھیں، اس میں بہتری آ رہی ہے لیکن ہم اب بھی یہ بحث کر رہے ہیں کہ عورت نے مرد کو تھپڑ مارا اور مرد نے عورت کو، مزید لکھا کہ ’ہم تھپڑوں سے باہر نہیں آ سکتے، ہم بیمار قوم بنتے جا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button