خلیل الرحمٰن قمر نے عورتوں کو جنگلی کیوں قرار دے دیا؟


خواتین کی حد سے بڑھتی آزادی اور میرا جسم میری مرضی مہم کے سخت ترین ناقد، معروف ڈرامہ ساز، خلیل الرحمن قمر نے ایک مرتبہ پھر اپنی لبرل خواتین کے گروپس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 36 عورتوں کا گروہ اژدھوں کی طرح پاکستان کے نظام کو کھانا چاہتا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے کسی کا نام لیے بغیر بعض خواتین کو ’جنگلی‘ بھی کہا، انہوں نے کہا کہ ان کو ایسی جنگلی خواتین کے ساتھ دو سال تک لڑنا پڑا لیکن وہ ایسی خواتین کی نظریاتی موت تک ان سے لڑتے رہیں گے۔
تاہم حال ہی میں ریلیز ہونے والی مہوش حیات اور ہمایوں سعید کی فلم ‘لندن نہیں جاؤں گا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری لکھی گئی اس کہانی کو دیکھ کر لوگ جان جائیں گے کہ میں زن بیزار نہیں ہوں۔
خلیل الرحمٰن قمر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کی کہانی ایک ٹی وی شو میں ماروی سرمد کے ساتھ جھگڑا ہونے سے سات ماہ قبل لکھی تھی، خلیل قمر کا کہنا تھا کہ ’’لندن نہیں جاؤں گا‘‘ دیکھ کر کچھ لوگ کہیں گے کہ شاید اس فلم کی کہانی میں نے خاتون سے تنازعے کے بعد لکھی لیکن درحقیقت وہ کہانی جھگڑے سے پہلے ہی لکھ چکے تھے۔
معروف ڈراما ساز نے بتایا کہ وہ خواتین کے مسائل کو بہتر انداز میں جانتے ہیں، خود پر تنقید کرنے والے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’’لندن نہیں جاؤں گا‘‘ دیکھتے وقت چُلو بھر پانی لے جائیں، جس میں وہ ڈوب کر مر جائیں۔ خلیل الرحمٰن قمر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ شاید ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے کبھی حقوق نسواں کا جھنڈا مردوں کے پیروں میں گرنے نہیں دیا بلکہ اسے ہمیشہ بلند رکھا ہے۔

Related Articles

Back to top button