دنیا بھرمیں ایوارڈزجیتنے والی فلم جوائے لینڈ پرپابندی کیوں؟


بیرون ممالک کامیابی کے جھنڈے گاڑنے، کانز فلم فیسٹیول میں جیوری پرائز جیتنے، اور آسکر کیلئے نامزدگی حاصل کرنے والی پاکستانی فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کو اپنے ہی ملک میں پابندی کا سامنا ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ فلم بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ تین مرتبہ اس کی ریلیز کے احکامات حاصل کر چکے ہیں لیکن عین وقت پر اسکی نمائش پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس فلم کی کہانی ایک ایسے نوجوان اور ایک مخنث ڈانسر کے گرد گھومتی ہے جو ڈانس کلب میں کام کے دوران ایکدوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ فلم کو کہانی کے اچھوتے موضوع کی وجہ سے کافی سراہا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں معیوب سمجھے جانے والے موضوع پر فلم بنانے کی وجہ سے ہی اسے دنیا بھر میں ایوارڈز سے نوازا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی مشہور شخصیات کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے اور فلم سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، فلم پر پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے 11 نومبر کو جاری کیا گیا، نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ فلم سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کیونکہ اس میں قابل اعتراض مواد شامل ہے۔ ’’جوائے لینڈ‘‘ کو پاکستان میں 18 نومبر کو ریلیز ہونا تھا لیکن پابندی کے بعد اس کی ریلیز روک دی گئی، یہ فلم کانز فیسٹول 2022 میں دکھائی جا چکی ہے جہاں اسے جیوری پرائز بھی دیا گیا تھا اور آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ فلم پر پابندی کے بعد حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اداکارہ میرا سیٹھی نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جوائے لینڈ پر پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کو جمہوریت پسند کہیں اور فلموں اور آرٹ پر پابندی لگاتے پھریں۔

محقق ندا کرمانی نے بھی پاکستان میں ’فیصلہ سازوں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’بس ابھی پتہ چلا کہ جوائے لینڈ پاکستان میں ریلیز نہیں ہو رہی، ایک ایسی فلم جسے بین الاقوامی ناظرین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ ندا کرمانی کے مطابق ہمارے فیصلہ سازوں کی جانب سے پاکستانی ناظرین سے بچوں سا سلوک کیا جا رہا ہے اور اخلاقیات کے نام پر آرٹ اور کلچر سے محروم کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی حکومتی پابندی کو غلط اور اسے ’اخلاقی پولیس‘ کو خوش کرنے جیسا اقدام قرار دیا ہے۔ اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنی ایک ٹویٹ میں پوچھا کہ وہ چہرے کون ہیں جو جوائے لینڈ پر لگنے والی پابندی کے پیچھے ہیں؟ انہیں ڈر کیا ہے؟ مزید لکھا کہ ’کب تک ان منافقین کی جانب سے پاکستان کا گلا گھونٹا جاتا رہے گا جو مغربی دنیا کے تمام فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پر زمانۂ جاہلیت کے نظریات مسلط کرتے ہیں۔

سلمان صوفی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں اپنی دوست مریم اورنگزیب سے درخواست کروں گا کہ اگر ہو سکے تو اس پابندی پر نظر ثانی کریں اور جوائے لینڈ کی ٹیم سے مل لیں۔ فلم ’جوائے لینڈ‘ صائم صادق کی ہدایت کاری میں بنی ہے اور اس میں مرکزی کردار راستی فاروق، ثروت گیلانی، ثابیہ سعید اور علی جونیجو نے ادا کیے ہیں۔جوائے لینڈ‘ وہ واحد فلم نہیں جسے حالیہ برسوں میں پاکستان میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ حکومت میں سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشہ‘ پر بھی اسی طرح کی پابندی لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ فلم اب تک پاکستان میں ریلیز نہیں ہو سکی ہے۔

Related Articles

Back to top button