راحت فتح علی خان نے خود کو ٹیپ ریکارڈر کیوں قرار دیا؟

معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے الیکشن کی آمد کے موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو گانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایک ٹیپ ریکارڈر ہوں، ہر سیاسی جماعت کے لیے نغمہ گا سکتا ہوں۔لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں راحت فتح علی خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ثقافتی تعلقات بحال کرنے کی ضرورت ہے، آئندہ ماہ فروری میں ورلڈ ٹوور پر جا رہا ہوں، یہ ورلڈ ٹوور جنوبی افریقا سے شروع ہوگا جس میں امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت 20 ملکوں کا دورہ کروں گا، فلاحی کام کرنے جا رہا ہوں جو پہلے سے بنی فلاحی تنظیمیں ہیں ان کو فنڈز دیا کریں گے ان کی مدد کریں گے، سیاست میں آنے کے سوال پر گلوکار نے کہا کہ نہیں میں اس قابل نہیں ہوں کہ سیاست میں شرکت کروں، 2024 میں کس سیاسی جماعت کیلئے نغمہ گائیں گے؟ کے سوال پر راحت فتح علی کا کہنا تھا کہ میرا ہر جماعت کیلئے نغمہ ہوتا ہے، میں ایک ٹیپ ریکارڈر کی طرح ہوں، جس نے اپنی کیسٹ لگانی ہے لگا لے۔راحت فتح علی خان 9 دسمبر 1974 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور ان کو والد فرخ فتح علی خان اور نصرت فتح علی خان کے ساتھ بچپن سے ہی قوالی کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا، وہ اب تک سیکڑوں قوالیاں گیت اورغزلیں گا چکے ہیں اور ان کے گائے گیت اور غزلیں عوام میں بے حد مقبول ہیں، پاکستان بھر میں ان کی شہرت کے بعد ہمسایہ ملک بھارت نے بھی ان کی آواز سے فائدہ اٹھایا، بھارتی فلم پاپ میں ان کی آواز میں گایا گیت ’’من کی لگن‘‘ نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔راحت فتح علی خان اب تک کئی ڈراموں اور فلموں کے ٹائٹل سونگ بھی گا چکے ہیں اور انہوں نے متعدد ملی نغمے بھی گائے، 2019 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے انہیں موسیقی کے شعبے میں اعزازی طورپر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا جبکہ وہ اب تک متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز جیت کر ملک وقوم کا نام روشن کر چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button