عامر لیاقت کی برہنہ ویڈیوز کیا مکافات عمل کا نتیجہ ہیں؟


اپنی تیسری اہلیہ دانیا شاہ کی قابل اعتراض آڈیوز لیک کرنے والے عامر لیاقت حسین مقافات عمل کا شکار ہوگئے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی اپنی برہنہ ویڈیوز وائرل ہو گئی ہیں جسکے بعد انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے سے کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ وائرل برہنہ ویڈیوز پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے ایف آئی اے پر سوال اٹھایا ہے کہ اس ادارے نے اس پر ابھی تک کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ برہنہ ویڈیوز پر آپ کا موقف کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ جن کی ذمہ داری تھی کہ کسی کی عزت نہ اچھالی جائے اور ہر شہری کی عزت اور آبرو کی حفاظت کی جائے، اس ادارے نے اس معاملے کا از خود نوٹس کیوں نہیں لیا؟

اپنی ایک اور ٹویٹ میں عامر لیاقت نے لکھا کہ اچھے ہیں وہ لوگ جو زنا کرتے ہیں، بے شرم ہیں جو نکاح کرتے ہیں۔ اب دیکھیے گا کہ کتنی آوازیں بلند ہوں گی کیونکہ سب کے نکاح پر بات جو آ گئی۔ اب یہ تماشا رکے گا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا میں بھی ویڈیوز جاری کرتا؟ نہیں، میں ان لبرلز کی منافقت کی لاج رکھنا چاہتا ہوں جو ویڈیوز کے جاری ہوتے ہی عورت کی عزت کی حفاظت کے نام پر موم بتیاں جلانا شروع کریں گے۔ عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ کسی عزت سے کھیلنے اور اسے خبر بنا کر چسکے لینے والوں کے تمام معاملات میں اللہ تعالی کے سپرد کرتا ہوں جسے اونگھ آتی ہے نا نیند، جو سرسراہٹوں کو سُن لیتا ہے اور جسے بنی اسرائیل کے اس بندے کی ذلت بھی گوارا نہ تھی جو اسی کا منکر تھا اور سیدنا موسیٰ کے پاس چھپا تھا۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ جو میری ویڈیوز پر شوز اور پروگرامز کر رہے اور خبریں بنا رہے ہیں، وہ انتظار کریں، انکی سخت گرفت ہو گی کیونکہ طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے۔ عکس پر نہ اتراؤ، آئینہ ہمارا ہے۔ کچھ حاسد، کچھ دشمن اور کچھ شکست کے مارے ہیں۔ عامر لیاقت واپس آئے گا، انشاء اللہ۔

ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف قسم کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
کئی خواتین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اس لیے یہ مناسب نہیں کہ پرائیویٹ زندگی کی ویڈیوز بنائی جائیں اور پھر ایک دوسرے سے بدلہ لینے کے لیے انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جائے۔ تاہم کچھ لوگوں کے تاثرات اس کے برعکس ہیں۔
عشر عظیم نے ٹویٹ کی کہ دانیا کو حکومت کی طرف سے سپورٹ اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم زیادہ تر لوگوں کا یہ سوال بھی ہے کہ کیا کوئی قانونی طریقہ موجود ہے جس کے تحت ان دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف نامناسب مواد شیئر کرنے سے سے روکا جا سکے؟

کامی نے ٹویٹ کی کہ ’کیا قانون دانیا کو عامرلیاقت حسین کی ذاتی ویڈیوز جاری کرنے سے روک سکتا ہے؟ کیونکہ باقی کیس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے لیکن یہ فعل قابل مذمت، غیر اخلاقی اور غیر اخلاقی ہے۔شیخ صاحب نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’ریوینج پورن ٹھیک نہیں ہے۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘ یاد رہے کہ پاکستان میں ریوینج پورن کے کیس کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ ایسے کئی کیس سامنے آئے ہیں کہ کئی سال پہلے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر کو ‘ریوینج پورن’ کے طور پر استعمال کیا گیا جس کا متاثرین کی زندگیوں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ تاہم عامر لیاقت کے کیس میں میاں بیوی کے درمیان گزرے وقت کی نازیبا ویڈیوز ریلیز کی جا رہی ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق ریوینج پورن کا شکار خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ عمل مرد اور عورت دونوں کے لیے ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق، ان کی ہیلپ لائن کو گذشتہ سال چار ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,600 کے قریب ذاتی نوعیت کی تصاویر کے بغیر اجازت استعمال سے متعلق تھیں۔
اس پہلو پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق ایسے کیسوں کی حقیقی تعداد کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کیونکہ زیادہ تر کیسز میں خواتین شرمندگی اور بدنامی کے خوف سے شکایت کے لیے آگے نہیں آتیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کی تفتیشی افسر عظمیٰ خان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ان کے پاس اس نوعیت کی شکایت لے کر آنے والی خواتین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں سائبر کرائم ونگ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریوینج پورن سے متعلق شکایات کا جائزہ لے۔ عظمیٰ خان کے مطابق ملک میں زیادہ تر معاملات میں، یہ شکایات سابق بوائے فرینڈز، منگیتر، ناراض دفتری ساتھیوں اور بہت سے معاملات میں شوہر کے خلاف سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں ‘ریوینج پورن’ کے زیادہ تر معاملات میں خواتین کو ان کی ذاتی نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز ان کے گھر والوں کو بھیج کر یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

سنہ 2016 میں پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ‘ریوینج پورن’ جیسے جرائم میں سات سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا قانون بنایا کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اب بھی زیادہ تر خواتین سائبر ونگ سے مدد لے کر قصورواروں کو سزا دینے کے لیےقانونی راستہ اختیار نہیں کرتی ہیں۔ ایف آئی اے کے سائبر ونگ کی افسر عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ ‘ان خواتین کو لگتا ہے کہ پہلے ہی بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے اور یہ کہ اب اس معاملے کو یہیں روک دینا چاہیے۔ بس مزید نہیں، وہ چاہتی ہیں کہ اس معاملے کی معلومات زیادہ لوگوں تک نہ پہنچیں۔ وہ اپنے گھر والوں سے بھی اسے خفیہ رکھنا چاہتی ہیں۔’

Related Articles

Back to top button