فلم ’’پیچھے تو دیکھو‘‘ لوگوں کو متاثر کیوں نہیں کرسکی؟


پاکستان میں زیادہ تر ایکشن، رومانوی اور کامیڈی فلمیں بنائی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں ملک بھر کے سنیما گھروں میں ایک ہارر کامیڈی فلم ‘پیچھے تو دیکھو’ ریلیز ہوئی۔ تاہم یہ فلم شائقین پر وہ اثر نہ چھوڑ سکی جس کی اس سے توقع کی جارہی تھی۔ لیکن پھر بھی ’’پیچھے تو دیکھو‘’ ایک ایسی کوشش ہے جسے دیکھ کر فلم ساز مستقبل میں اس اسٹائل کی فلمیں بنانے کا سوچ سکتے ہیں، اس فلم کی ہدایات سید عاطف علی نے دی ہیں جب کہ اس میں اداکار یاسر حسین، عادی عدیل امجد ، نوال سعید اور سارہ علی خان نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
فلم کی کہانی پاکستان کے سندھ کے شہر حیدرآباد کے ایک ایسے بنگلے کے گرد گھومتی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں جانے والا کوئی بھی شخص زندہ واپس نہیں آتا اور اس کی لاش قریب میں موجود ایک جھیل سے ملتی ہے۔ دو دوست زلفی اور ٹیپو بنگلے کی نگران خواجہ سرا ‘رانی’ سے ملنے کے بعد وہیں ٹھہر جاتے ہیں، لیکن پھر ان کی ملاقات بنگلے میں موجود دو دوشیزاؤں شبنم اور ممتاز سے ہوتی ہے، دونوں ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور پھر انکی دکھ بھری کہانی سن کر ان کی مدد کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ‘پیچھے تو دیکھو’ سے شائقین محظوظ ہوں یا نہ ہوں لیکن اس سے اُن فلم سازوں کو ضرور حوصلہ ملے گا جو کامیڈی اور رومانوی فلموں کے علاوہ کسی اور اسٹائل کی فلم بنانا چاہتے ہیں، اس فلم میں کسی بڑے اسٹار کو کاسٹ کیا گیا ہے نہ ہی اس کی عکس بندی کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہے۔ کم بجٹ کے لحاظ سے یہ ایک مناسب فلم ہے جسے تھوڑی محنت سے مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا۔
تاہم اداکاراؤں کی نا تجربہ کاری، کہانی میں جھول اور کمزور ہدایت کاری کی وجہ سے فلم شائقین پر وہ تاثر نہیں چھوڑ سکی ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی، فلم میں یاسر حسین اور عادی عدیل کی کامیڈی کے سوا کچھ نہیں، پیچھے تو دیکھو’ دیکھنے والے شائقین کو جتنی بار بھی ہنسی آئی ہوگی تو وہ ممکن ہے یاسر حسین کے کسی لطیفے پر آئی ہو یا عادی کی کسی جگت پر، دونوں نے اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف تو کیا ہے لیکن کئی جگہوں پر ان کا ‘ٹوائلٹ ہیومر’ مایوس کر گیا۔ دونوں کے علاوہ اس فلم میں دیکھنے کو کچھ خاص نہیں تھا، فلم کے انٹرول سے پہلے کہانی بالی وڈ فلم ‘بھول بھلیاں’ سے ملتی جلتی لگی جب کہ بریک کے بعد ‘اوم شانتی اوم’ کی طرح کا ایک موڑ آیا جس میں فلم کے تین کردار اپنا ماضی فلیش بیک کے ذریعے سناتے ہیں۔
فلم کے جس پہلو پر سب سے زیادہ محنت کی گئی وہ اسپیشل ایفیکٹس تھے لیکن وہ بھی شاید لوگوں کو اس لیے بہتر لگے کیوں کہ کافی عرصے سے کسی پاکستانی فلم میں و ی ایف ایکس کا ایسا استعمال نہیں کیا گیا ہے، اس فلم میں جس وجہ سے بھوت اور چڑیل دکھائے گیے وہ مضحکہ خیز لگے۔ بظاہر کم بجٹ میں بننے والی اس فلم میں اداکاروں کے کپڑے بھی زیادہ تبدیل نہیں کیے گئے ہیں جبکہ کئی سین تھیٹر کی طرح سیٹ پر ہی شوٹ کیے گئے ہیں، اس فلم کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کا بجٹ تھوڑا زیادہ ہوتا اور ہدایت کار اس پر مزید محنت کرتے تو شاید یہ شائقین کو پسند آ سکتی تھی۔

Related Articles

Back to top button