فیروز خان اور اہلیہ کے مابین آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کا امکان

طلاق کے بعد بچوں کے خرچے اور انکی حوالگی کے لئے ایک دوسرے کے خلاف گارڈین کورٹ میں کیسز کرنے والے معروف اداکار فیروز خان اور ان کی اہلیہ کے مابین آؤٹ آف کورٹ سیٹلمینٹ کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ فیروز خان کے وکیل نے بتایا ہے کہ اداکار نے اپنی سابقہ اہلیہ کو عدالت سے باہر معاملات کو حل کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے نتائج مثبت ہیں۔ سوشل میڈیا پر فیروز خان اور علیزے سلطان کے وکلاء کی میڈیا سے گفتگو کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دونوں کو کیس کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فیروز خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ اداکار کی جانب سے معاملے کو عدالت کے باہر طے کرنے کی پیشکش کی گئی ہے جس کے بعد ایک دو سماعتوں میں ہی کیس ختم ہو سکتا ہے۔

 

فیروز خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کچھ رقم کی ہم آفر کریں گے، کچھ وہ بتائیں تو اس طرح باہمی رضا مندی کے ساتھ بچوں کے نان نفقے کے معاملات طے پا جائیں گے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اگرعلیزے سلطان اس پیشکش پر مان گئیں تو ٹھیک ورنہ عدالت میں کیس تو ویسے ہی چل رہا ہے۔

دوسری جانب علیزے کے وکیل نے کہا کہ فیروز خان کے بچوں کا سکول میں داخلہ رکا ہوا ہے، دسمبر کا مہینہ شروع ہونے والا ہے، باپ بچوں کا ایڈمیشن نہیں کروا کر دے رہا، ہمارا فیروز سے مطالبہ ہے کہ آپ سکول جا کر بچوں کا ایڈمیشن کروا دیں  ہمیں پیسے نہ دیں۔ لیکن اس کے باوجود بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔

 

علیزے کے وکیل نے کہا کہ بچوں کی تعلیم اور نان نفقے کا خرچہ والدہ اور ان کے گھر والوں کی جانب سے کیا جارہا ہے جوکہ فیروز خان کی ذمہ داری ہے، 3 مہینے سے کیس چل رہا ہے، 4 ماہ سے بچے کا سکول شروع ہوگیا ہے لیکن باپ کو کوئی پرواہ نہیں۔ تاہم اب فیروز خان کی جانب سے یہ آفر کی گئی ہے کہ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمینٹ کرلی جائے۔ یاد رہے کہ علیزے سلطان نے بچوں کے خرچے کے لیے 2 لاکھ روپے ماہانہ دینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے جبکہ فیروز خان نے اس رقم کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں بچوں کے لیے ماہانہ صرف 40 ہزار روپے ہی ادا کر سکتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ علیزے کے خلاف بچوں کی حوالگی کا کیس فیروز خان نے بھی دائر کر رکھا ہے۔ یکم نومبر سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران علیزے سلطان نے عدالت میں خود پر تشدد کی پولیس اور میڈیکل رپورٹس جمع کروانے سمیت تشدد کی تصاویر بھی جمع کروائی تھیں، جس کے بعد ان پر تشدد کی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں اور شوبز شخصیات نے فیروز خان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔فیروز نے شوبز شخصیات کی تنقید کے بعد خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اب انہوں نے کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے کہ علیزے فاطمہ سلطان نے عدالت کو بھی غلط رپورٹس جمع کرواکر کورٹ کو گمراہ کیا۔

علیزے اور فیروز خان کے درمیان ستمبر کے آغاز میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں نے 21 ستمبر کو سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا تھا کہ ان کے درمیان 3 ستمبر کو طلاق ہوگئی۔ دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی اور ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش 2019 جب کہ رواں برس کے آغاز میں جوڑے کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان گزشتہ دو سال سے اختلافات کی خبریں تھیں مگر پھر ان کے ہاں رواں برس دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد خیال کیا گیا کہ ان کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے لیکن پھر ستمبر میں دونوں نے طلاق کی تصدیق کی۔

Related Articles

Back to top button