فیروزخان اورعلیزے کا طلاق کے بعد عدالت میں آمنا سامنا


گھریلو تشدد کے الزامات کی لگا کر طلاق لینے والی علیزے سلطان بچوں کی حوالگی اور خرچے کے کیس کی سماعت کے دوران اپنے سابقہ شوہر فیروز خان کے سامنے آ گئیں لیکن دونوں نے ایک دوسرے سے بات کیے بغیر اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارا۔ دونوں کے درمیان ستمبر میں طلاق ہوئی تھی، فیرسز اورعلیزے نے 21 ستمبر کو بتایا تھا کہ ان کی طلاق ہو چکی ہے اور اب دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیس دائر کر رکھے ہیں۔ علیزے سلطان نے بچوں کے اخراجات جبکہ فیروز خان نے بچوں کی حوالگی کے لیے کیسز دائر کر رکھے ہیں، دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی۔ انکا ایک تین سالہ بیٹا اور ایک 6 ماہ کی بیٹی بھی ہے جو کہ والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ دونوں کے کیسز کی سماعت 5 نومبر کو ہوئی، جس دوران علیزے فاطمہ نے اپنے بچوں کی ان کے والد سے ملاقات کروائی، عدالت نے پہلے ہی فیروز خان کو ہر مہینے دو بار بچوں سے احاطہ عدالت میں ملنے کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ ہر ماہ کے پہلے اور آخری ہفتے میں بچوں سے عدالت میں مل سکیں گے۔

طلاق ہوجانے کے بعد پہلی بار فیروز خان 5 نومبر کو بچوں سے ملنے سٹی کورٹ پہنچے تو انہیں بچوں کو گود میں اٹھا کر عدالت میں کھیلتے دیکھا گیا۔ ویڈیوز میں علیزے فاطمہ کو بھی بچوں کو گود میں لے کر کمرہ عدالت میں لاتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں انہوں نے بچوں کو والدین سے ملوایا، علیزے فاطمہ کے ہمران ان کے بھائی بھی عدالت میں موجود تھے جبکہ فیروز خان کے ساتھ اپنی سکیورٹی ٹیم بھی تھی۔

بچوں سے ملاقات سے قبل دونوں کے کیسز کی سماعت بھی ہوئی، تاہم بچوں کے اخراجات سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور عدالت نے فیروز خان سے آمدنی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔سماعت کے بعد علیزے فاطمہ کے وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ فیروز خان نے عدالت میں بچوں کو ماہانہ فی کس 20 ہزار روپے دینے کی حامی بھری جبکہ والدہ اس سے زیادہ کے اخراجات مانگ رہی ہیں، جس پر اداکارہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس سے زیادہ اخراجات ادا نہیں کرسکتے، جس پر عدالت نے ان آمدنی کے تفصیلات طلب کرلیں۔

وکیل نے بتایا کہ فیروز خان نے بچوں کے تعلیمی اور صحت کے علیحدہ اخراجات دینے کی بھی حامی بھری اور بتایا کہ تعلیم و صحت کے اخراجات کے دستاویزات جمع کروانے پڑیں گے، سماعت کے بعد فیروز خان کے وکیل نے بتایا کہ طلاق سے قبل علیزے فاطمہ سلطان نے فیروز خان سے پیسے مانگے اور نہ دینے کی صورت میں ان پر تشدد کے الزامات لگانے کی دھمکی بھی دی۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ معاملہ عدالت کے سامنے رکھا اور عدالت کو علیزے فاطمہ کا وہ نوٹس بھی دکھایا جس میں اگست میں ہی شوہر سے پیسے مانگے اور نہ دینے کی صورت میں ان پر تشدد کے الزامات عائد کرنے کا کہا، یہ بھی کہا کہ فیروز خان پر تشدد کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہیں کام کرنے میں مشکلات درپیش ہیں اور بہت لوگ ان کے ساتھ کام کرنے سے کترا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button