معروف گلوکار ’’جسٹن بیبر‘‘ چہرے کے فالج کا شکار ہو گئے


’’بے بی‘‘ گانے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر چہرے کے فالج کا شکار ہوگئے ہیں، گلوکار کے چہرے کی بائیں سائیڈ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے 28 سالہ گلوکار نے اپنے تمام میوزیکل شو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیئے ہیں۔

شہرہ آفاق پاپ گلوکار نے انسٹا گرام پر مختصر ویڈیو میں بتایا کہ انہیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ ان کے چہرے کی ایک سائیڈ کام نہیں کر رہی اور پھر مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ ’رمسے ہنٹ سنڈروم‘ کا شکار بن چکے ہیں۔

کینڈین گلوکار نے ویڈیو میں فالج سے متاثر چہرے کا حصہ بھی دکھایا اور بتایا کہ انکی ایک آنکھ اور گال بھی درست انداز میں کام نہیں کر رہے اور انہیں کان سے لے کر جبڑے تک تکلیف ہے۔ جسٹن بیبر نے دکھایا کہ کس طرح آنکھیں جھپکنے پر ان کے چہرے کے متاثر سائیڈ والی آنکھ نہیں جھپک رہی اور نہ ہی ہنسنے پر متاثرہ حصے کا گال حرکت میں آ رہا ہے۔

معروف گلوکار نے کہا کہ وہ فالج کو شکست دینے کے لیے علاج شروع کر رہے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ انہیں مکمل صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگے گا، جسٹن بیبر نے مداحوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے معذرت بھی کی کہ انہوں نے بیماری کے باعث اپنے کنسرٹس منسوخ کر دیئے۔

جسٹن بیبر نے تمام مداحوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی صحت یابی کے لیے دعا کرنے کی اپیل بھی کی، گلوکار نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں ’رمسے ہنٹ سنڈروم‘ کیسے لاحق ہوا، تاہم یہ بیماری عام طور پر ان کم عمر افراد کو نشانہ بناتی ہے جو بچپن میں ’چکن پاکس‘ سمیت ایسی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ’رمسے ہنٹ سنڈروم‘ اس وقت متحرک ہوجاتا ہے جب کہ ماضی میں چکن پاکس سے متاثرہ شخص کے جسم میں رہ جانے والے چکن پاکس کے اثرات دوبارہ متحرک ہوتے ہیں۔

’رمسے ہنٹ سنڈروم‘ بیماری میں مکمل چہرہ یا چہرے کا ایک حصہ متاثر ہوتا ہے، اس دوران کان اور آنکھ بھی شدید متاثر ہوتے ہیں، اگر یہ بیماری شدید ہو جائے تو متاثرہ شخص سننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے، ’’رمسے ہنٹ سنڈروم‘‘ قابل علاج ہے، تاہم اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور اگر بیماری کی شدت زیادہ ہو تو صحت یابی میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button