ناقدین نے دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی کلاس کیوں لے لی؟


بلال لاشاری کی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ نے آج کے جدید دور میں ممی، ڈیڈی اور بچوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے پاکستانی فلم انڈسٹری میں نیا ٹرینڈ سیٹ کر دیا ہے، لاشاری خود یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ ارطغرل غازی اور کوک سٹوڈیو کے بعد آخر نوری نت اور مولا جٹ کے گنڈاسے کو کون دیکھے گا؟ لیکن ارطغرل کے پرستاروں کی طرف سے جواب آیا کہ ہم دیکھیں گے، کوک سٹوڈیو کی موسیقی سن لیتے ہیں تو یہ فلم بھی دیکھ لیں گے۔ فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی مقامی اور عالمی سطح پر بے مثال کامیابی نہ صرف پاکستانی فلموں کے لیے کامیابی کا نیا فارمولا پیش کرتی ہے بلکہ سینما کے نئے کلچر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

بلال لاشاری نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے بالی ووڈ فلموں کی طرح آئٹم سانگ کا کلچر پسند نہیں بلکہ میں ہالی ووڈ فلموں کے سٹرکچر پر فلم بنانا چاہتا تھا، اس لیے پہلے فلم کا سکرپٹ انگریزی زبان میں لکھا لیکن بعد ازاں ’’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘‘ کو پنجابی زبان میں ہی بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہالی ووڈ کے سٹرکچر پر پنجابی فلم‘ کا تیر کارگر ثابت ہوا اور فلم باکس آفس پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے چلی جا رہی ہے، آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بلال لاشاری اور ان کی ٹیم اپنے متوقع شائقین کی نفسیاتی کیفیات اچھی طرح سمجھتی ہے، مولا جٹ اپنی زبان کے اعتبار سے پنجابی مگر پیشکش پوری طرح ہالی ووڈ اور ساؤتھ انڈین فلموں کی ہے۔ پرانی مولا جٹ کے برعکس اس فلم کی دنیا پنجاب کے بجائے تصوراتی ہے جہاں اکھاڑا سجتا ہے تو جلد ہی قدیم رومن دنگل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

مولا جٹ اور نوری نت اپنے حلیے سے قدیم جنگجو نظر آتے ہیں۔ مکھو یعنی ماہرہ خان پنجابی مٹیار کے بجائے ایک نازک اندام سلم سمارٹ لڑکی ہے جیسے وہ باقاعدگی سے جم جاتی اور ڈائٹ پلان کا خیال رکھتی ہو۔ دیسی چھپر کے بجائے بار کا سا منظر ہے۔ فلم پر پنجاب کی ہزاروں سالہ تاریخ سے زیادہ ہالی ووڈ کی ایک فلم ’گلیڈی ایٹر‘ کے اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ واقعی ایک تصوراتی دنیا تھی جہاں آپ سرسوں کا ساگ بیسن کی روٹی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ہدایت کار کا یہ دعوی ٰکہ ’مولا جٹ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی ثقافت کو زندہ رکھ سکیں، ناقابلِ فہم لگتا ہے۔ فلم میں نہ تو پنجاب کی قدیم ثقافت موجود ہے اور نہ ہی نوجوان نسل اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ان کا سروکار ہی نہیں۔ ہماری نوجوان نسل نے اندھا دھند ارطغرل دیکھا جس کا پنجاب کی ثقافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ اس میں بھی ایک خاص طرح کا ’ٹچ‘ تھا۔ البتہ تکنیکی اعتبار سے فلم لالی ووڈ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ بلال لاشاری کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ’موجودہ نسل تب کی مشہور اور کامیاب فلموں اور پنجابی گنڈا سا کلچر کا مذاق صرف اس لیے اڑاتی ہے کیوں کہ وہ تکنیکی اعتبار سے موجودہ دور سے ہم آہنگ نہیں تھیں۔‘ یہ فلم ممی ڈیڈی بچوں کے لیے ایک بھرپور انٹرٹینمنٹ ہے جو ایسا لگتا ہے انہی کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس میں بلال لاشاری یا ان کی ٹیم سے شکوہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ یہ بحیثیت مجموعی ہمارے سماج اور پاکستانی سینما کے نئے کلچر کی بہت واضح تصویر ہے، مقامی سطح پر اس فلم کو دیکھنے والوں میں ایک بڑی تعداد مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ایسے نوجوانوں کی ہے جو باقاعدگی سے ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی یا فواد خان کے فین کلب کا حصہ تھے۔ ان کے لیے سینما جانے کی ایک بنیادی کشش اپنے اپنے پسندیدہ فنکاروں کو نئے روپ میں دیکھنا تھا۔ دوسری طرف سینما جانا ایک سٹیٹس سمبل بھی ہے۔ آخر سیلفی بھی تو بھیجنا ہوتی ہے۔

فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ آج سے تقریباً 43 سال پہلے بننے والی مولا جٹ دیکھنے والوں کی اکثریت ایک مختلف طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ہمارے سینما ہال بڑے بڑے کاروباری سینٹرز میں ایک کاروباری یونٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ دوسری طرف فلم کا ٹکٹ عام آدمی کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جو شخص کسی ہوٹل میں 20 ہزار ماہانہ پر کام کر رہا ہے وہ فلم دیکھنے کے لیے ایک ہزار خرچ کرنے کا کیسے سوچ سکتا ہے، فیملی یا دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے جانا سینما کلچر کا بنیادی حصہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خود کو اس مزدور کی جگہ رکھ کر باقی حساب آپ خود کر لیجئے۔ نئے فارمولے کے مطابق اب چاہے فلم کی زبان پنجابی اور مواد دیسی ہو لیکن اس کے خد و خال دیسی ہوں گے کیوں کہ باکس آفس کا تعلق ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان افراد سے جڑا ہے جو لسی بھی برانڈڈ پیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہم نے پہلے عام آدمی سے سینما چھینا اور اب ان کا مولا جٹ بھی لے اڑے۔

Related Articles

Back to top button