واسع چوہدری نے ایوارڈ شو میں پبلک ووٹنگ احمقانہ قرار دے دی

معروف میزبان و اداکار واسع چودھری نے ایوارڈز شو کے دوران جیوری کے فیصلے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شو کے دوران پبلک ووٹنگ کا تصور بہت احمقانہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کسی فنکار کی صلاحیتوں کا ادراک ایک  فنکار ہی کر سکتا ہے جوکہ اس عمل سے گزرا ہو، اگر پبلک ووٹنگ سے ایوارڈ دیئے گئے تو زیادہ فین فالونگ والے اداکار ہی کامیاب ہوں گے۔

 

ایک انٹرویو میں پاکستانی ایوارڈ شوز میں جیوری کے نظام بارے سوال پوچھا گیا تو واسع نے بتایا کہ مجھے متعدد بار نامزد کیا گیا ہے، اور میں دو سال جیوری کا حصہ بھی رہا ہوں، یہ سوشل میڈیا سے پہلے کا وقت تھا، میں اس بارے میں بڑا واضح ہوں کہ عوامی ووٹنگ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ بہت بڑا بلیک ہول ہے جس میں آپ کود سکتے ہیں، کیونکہ صرف جیوری ہی درست فیصلہ کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پبلک ووٹنگ یا پولنگ سیشن پاکستان کی ایجاد ہے، جو کہ فضول ہے، آسکر ایوارڈز کو دیکھیں، اگر لیونارڈو ڈی کیپریو نامزد ہوتا ہے تو وہ کئی برس پہلے ہی ایوارڈ حاصل کر چکا ہوتا کیونکہ ان سے بڑا فین کلب کسی اور کا نہیں ہے لیکن انہوں نے صرف ایک ایوارڈ جیتا ہے۔

 

واسع چوہدری نے کہا کہ ٹام کروز ہر آسکر میں ایوارڈ جیتتا کیونکہ ان کے پاس بہت بڑا فین کلب ہے، لہٰذا آن لائن ووٹنگ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، انہوں نے وضاحت کی کہ آن لائن ووٹنگ ان سٹارز کے لیے ہوتی ہے جن کے مداح ایوارڈ جیتنے میں مدد دیتے ہیں، مداحوں کی طاقت آرٹسٹ کے پروجیکٹ کی قدر کو بڑھانے کے لیے بڑی محدود ہوتی ہے، اسی طرح جیسے وہ سینما میں فلم دیکھنے جاتے ہیں اور فلمی ریکارڈ بریک کرنے میں مدد دیتے ہیں، یہاں پر مداحوں کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور اب جیوری کا کام ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو ایوارڈ سے نوازے۔معروف میزبان کے مطابق سینئرز ان کی مہارت کو جانچتے ہیں، چاہے وہ اداکار، مصنف، ڈائریکٹر اور موسیقار ہوں، یہاں پر مداح تصویر سے ہٹ جاتے ہیں، چاہے وہ ایک یا دو مداح ہوں یا پھر فواد خان کے 2 کروڑ مداح ہوں۔

واسع چوہدری نے مزید کہا کہ اب ہماری مہارت کو ترجیح دی جائے گی، اور جیوری فیصلہ کرے گی کہ کون سا اداکار، ہدایت کار یا مصنف جیتتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور لکس اسٹائل ایوارڈز سے آیا ہے لیکن اس سے بھی قبل یہ بھارت سے آیا جہاں 1996 میں شاہ رخ خان کو بہت سارے ایوارڈز دیے گئے۔اداکار نے کہا کہ لیکن اسی دوران منوج باجپائی نے اپنی سطح پر بہترین کام کیا، یہیں سے انہوں نے سمجھا کہ باجپائی اداکاری کر سکتے ہیں اور تنقیدی ایوارڈز، بہترین اداکار نقاد اور بہترین اداکار مقبول ہوئے، اس طریقے سے انہوں نے مقبولیت کے عنصر کے ساتھ اداکار کے اعزاز کو بھی برقرار رکھا۔

Related Articles

Back to top button