پاک بھارت فنکاروں کی فلم ’’ڈرامے آلے‘‘ میں کیا نیا ہے؟

دنیا بھر میں پنجابی فلموں، تھیٹر کے حوالے سے مقبولیت رکھنے والے سردار کمال کی نئی فلم ’’ڈرامے آلے‘‘ ریلیز ہو چکی ہے جوکہ برطانیہ میں بنائی گئی ہے، فلم پاکستانی و بھارتی کاسٹ پر مشتمل ہے۔فلموں کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن کے پیغام کے بارے میں سردار کمال نے کہا کہ ہم اور وہ تو ملنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ہمارے بڑے ہمیں نہ ملنے دیں تو ہم کیا کریں؟سردار کمال پنجابی تھیٹر اور فلم کا ایک مشہور و معروف نام ہیں جو پاکستان کے علاوہ انڈیا اور دنیا میں جہاں جہاں بھی پنجابی فلم یا تھیٹر دیکھنے والے ہیں ان میں بہت مقبول ہیں۔پنجابی فلم ڈرامے آلے کے بارے میں سردار کمال نے بتایا کہ پاکستان اور انڈیا کے فنکاروں پر مشتمل ہے جس میں انڈین پنجاب سے ہریش ورما ہیں جو ہیرو ہیں، جبکہ پاکستان سے ان کے علاوہ آصف اقبال، روبی انعم جو اس کی پروڈیوسر بھی ہیں، حنیف بیلا اور قیصر پیا اس میں کام کر رہے ہیں۔برطانیہ میں فلمیں اور خاص کر پنجابی فلمیں بننے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ میں فلم سازوں کو خاص رعایت دی ہوئی ہے جس کا پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے، مگر پاکستان میں اس کا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔’ان کا حساب کچھ ایسا ہوتا ہے کہ فلم کا خرچہ وہیں برابر ہوجاتا ہے اور کوئی نقصان میں نہیں رہتا۔ ’چین نے بھی پاکستان کو 500 سکرینز دے رکھی ہیں، لیکن ’میرا نام محبت ہے‘ کے بعد سے کوئی بھی فلم وہاں ریلیز نہیں ہوئی ہے۔‘سردار کمال کے مطابق ’ایسا نہیں ہے کہ تمام کے تمام فنکار وہاں جا کر کام کر رہے ہیں، لیکن وہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر تو وہ ہمارے فنکاروں کے ساتھ جب رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ ہی نہیں ہو پاتا، فلمیں بننا ضروری ہیں، اور کراچی میں فلمیں بن رہی ہیں یہ بڑی بات ہے، صرف ٹیمپو کا مسئلہ ہے کہ ٹی وی اور فلم کے ٹیمپو کا فرق ہوتا ہے، وہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ فلم آگے جائے گی بس واپس نہیں جانا چاہئے۔‘سردار کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں سینیما چل ہی باہر سے آنے والی پنجابی فلموں کی وجہ سے رہا ہے، پوری پوری فیملیز آتی ہیں پنجابی فلمیں دیکھنے۔سردار کمال نے شکوہ کیا کہ مولا جٹ کی کامیابی کے بعد اگر ان کی ٹیم چھوٹے بجٹ کی چھ سات فلمیں بنانا شروع کر دیتی تو فلمی صنعت چل پڑتی۔اپنی فلم ’ڈرامے آلے‘ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرامے والوں ہی کی کہانی ہے جس میں انہیں دکھایا گیا ہے مگر بٹوارے کے بارے میں ہے کہ ہماری رسمیں ملتی ہیں، ہمارے کھانے ملتے ہیں، عادات ملتی ہیں، یہ فلم موجودہ دور کی ہے مگر تقسیم ہند کے بارے میں ہے، اور انہیں امید ہے کہ یہ اچھی فلم ثابت ہوگی۔سردار کمال نے حکومت سے سوال کیا کہ ’ایک فلم پالیسی دینے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ ہے کہاں اور کس کے پاس ہے، کیونکہ پنجاب میں تو سٹوڈیو میں لوگ آج تک اس امید پر بیٹھے ہیں کہ پھر کوئی سلطان راہی آئے گا، اور پھر سے وہ دن واپس آئیں گے، وہ لوگ آج بھی وہیں ہیں اور اسی امید پر زندہ ہیں۔‘

Related Articles

Back to top button