سدھو موسے والا کا قتل: سلمان خان کی سکیورٹی میں اضافہ


بھارتی پنجاب کے معروف گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے بعد بالی ووڈ سپر سٹار سلمان خان کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ سدھو کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گینگ نے 2018 میں سلمان کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سدھو موسے والا کو 29 مئی کو بھارتی پنجاب میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری کینیڈین نژاد بھارتی دہشت گرد گولڈی برار نے قبول کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ انکے گینگ نے ہی سدھو موسے والا کو قتل کیا۔

گولڈی برار خطرناک دہشت گرد لارنس بشنوئی کے گینگ کا اہم لیڈر ہے، لارنس اس وقت بھارت کی بدنام جیل ’تہاڑ‘ میں سخت سکیورٹی میں قید ہے۔ بشنوئی گینگ نے سدھو موسے والا کے قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ان کے ایک کارندے کو مروانے میں کردار ادا کیا تھا، جس وجہ سے بدلے کے طور پر گلوکار کو قتل کیا گیا۔ لارنس بشنوئی وہی دہشت گرد ہیں، جنہوں نے 2018 میں سلمان خان کو جودھپور میں قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ تب لارنس نے کہا تھا کہ وہ سلمان کو راجستھان کے شہر جودھپور میں دورے کے دوران قتل کروا دیں گے، جس کے بعد دبنگ ہیرو کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔

اگرچہ لارنس بشنوئی اور اس کے گینگ کا سلمان خان سے متعلق منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں پولیس نے گرفتار کر کے ’تہاڑ‘ جیل منتقل کر دیا تھا، جہاں سدھو موسے والا کے قتل کے بعد ان کی سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے، کیونکہ وہاں فساد ہونے کا خطرہ ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کے گینگ کے کارندوں کی تعداد 700 تک ہے اور ان کا گروپ نہ صرف راجستھان بلکہ ہماچل پردیش، پنجاب اور دیگر ریاستوں میں بھی جرائم میں سرگرم اور ملوث ہے۔
سدھو موسے والا کے قتل کے بعد پنجاب اور اترکھنڈ پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے نصف درجن سے زائد افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے تفتیش کو بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button