اداکارہ میرا کو عدالت سے ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا

معروف اداکارہ میرا کو تب ایک بڑا دھچکا لگ گیا جب لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی عدم پیروی پر انکی دائر کردہ تکذیب نکاح کی درخواست خارج کردی۔ میرا نے رواں برس فروری میں خود کو عتیق الرحمٰن نامی شخص کی بیوی قرار دیے جانے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لیکن میرا اور انکے وکیل نے کیس کی پیروی نہیں کی، جس پر عدالت نے ان کا کیس خارج کردیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحسن نے اداکارہ میرا کی درخواست پر سماعت کی اور ان کے وکیل کو پیش ہونے کا موقع دیا۔ لیکن بار بار کے حکم کے باوجود اداکارہ اور اس کے وکیل پیش نہ ہوئے۔

چنانچہ عدالت نے کیس کی عدم پیروی پر میرا کا کیس خارج کردیا، میرا نے رواں برس فروری میں لاہور ہائی کورٹ میں ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ دبئی میں فلم کی عکسبندی کے دوران عتیق الرحمٰن نے جھوٹا نکاح نامہ اور تصاویر تیار کیں، انہوں نے اداکارہ کو بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹا نکاح نامہ تیار کیا۔

اداکارہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ تکذیب نکاح سے متعلق فیملی کورٹ کی ڈگری اور سیشن کورٹ کا حکم کاالعدم قرار دے کر عتیق الرحمٰن کا نکاح نامہ بھی جھوٹا قرار دیا جائے۔ لاہور کی سیشن کورٹ نے رواں برس 31 جنوری کو میرا کی ہی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وہ عتیق الرحمٰن نامی شخص کی بیوی ہی ہیں۔ سیشن کورٹ سے قبل فیملی کورٹ نے بھی 2018 میں اداکارہ میرا کو عتیق الرحمٰن کی بیوی قرار دیا تھا، جس کے خلاف اداکارہ نے اپیل دائر کی تھی مگر عدالت نے ان کی ہی درخواست مسترد کرتے ہوئے عتیق الرحمٰن کے حق میں بیان دیا تھا۔

عتیق الرحمٰن نامی شخص نے پہلی بار 2009 سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ میرا نے ان سے شادی کر رکھی ہے اور ان کی اہلیہ ہونے کے باوجود انہوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرکے کپتان نوید سے شادی کی۔ عتیق الرحمٰن نامی شخص کی جانب سے نکاح کے اوپر نکاح کا دعویٰ کرنے کے بعد میرا نے جولائی 2009 میں تکذیب نکاح کی درخواست دائر کی تھی۔ مذکورہ کیس کی درجنوں سماعتیں ہوئیں، یہاں تک کہ عدالت نے عدم پیشی پر میرا کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔

لاہور کی فیملی کورٹ نے تقریباً ایک دہائی بعد جون 2018 میں فیصلہ دیا تھا کہ اداکارہ عتیق الرحمٰن کی ہی بیوی ہیں۔ فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اداکارہ نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور وہاں بھی تقریبا ًتین سال تک سماعتیں ہوئیں اور عدالت نے 31 جنوری 2022 کو فیصلہ دیا کہ اداکارہ عتیق الرحمٰن کی ہی بیوی ہیں۔

اداکارہ میرا دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ انہوں نے عتیق الرحمٰن سے شادی نہیں کی اور مذکورہ شخص کے ساتھ ان کی کھچوائی گئی تصاویر دراصل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کا حصہ ہیں۔ تاہم عتیق الرحمٰن کے مطابق اداکارہ جن تصاویر کو ڈرامے کا حصہ قرار دیتی ہیں، دراصل وہ ان کی شادی کی تصاویر ہیں۔

Related Articles

Back to top button