عامر خان کی بیٹی کا مختصر لباس تنقید کی زد میں

بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی بیٹی اپنی 25ویں سالگرہ پر بکینی پہن کر کیک کاٹنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔ زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے طعنے دیتے ہوئے کہا ہے کہ عامر خان کو چاہئے کہ سالگرہ والے دن کم از کم اپنی بیٹی کو پورے کپڑے تو پہنائے۔

عام طور پر لڑکیاں سالگرہ پر مہنگے ترین لباس کا انتخاب کرتی ہیں لیکن عامر کی بیٹی نے بکینی میں سالگرہ منائی جبکہ انکے والد بھی سوئمنگ کے لباس میں ملبوس بیٹی کے ساتھ موجود تھے۔

اس حوالے سے معروف پاکستانی کالم نگار یاسر پیر زادہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالگرہ تقریب کی تصاویر میں نے سوشل میڈیا پر دیکھیں، جن میں عامر اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی بیٹی نے بکینی پہنی ہوئی ہے اور وہ کیک کاٹ رہی ہے، سب لوگ تالیاں بجا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ تصاویر کسی اور اداکار کی ہوتیں تو شاید میں حیران نہ ہوتا مگر عامر خان کو فلم انڈسٹری میں ’مسٹر پرفیکٹ‘ کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ نہ صرف ان کی فلموں کے موضوعات ہیں بلکہ ان کے سوچنے کا انداز بھی ہے، وہ جو کام کرتے ہیں، اچھوتے اور منفرد انداز میں کرتے ہیں۔ یاسر پیر زادہ نے کہا کہ عامر خان کے نظریات میں بھی بظاہر کوئی کھوٹ نہیں، وہ ایک سیکیولر ذہن کے آزاد خیال انسان ہیں، مسلمان ہیں، حج کا فریضہ ادا کر چکے ہیں، دو شادیاں کر چکے ہیں، دونوں بیویوں سے علیحدگی ہو چکی ہے۔
میں نے بہت سوچا، لبرل ازم کے تمام پہلو کھنگالے، آزاد خیالی کے گھوڑے دوڑائے، شخصی آزادی کی دیوار پر بھی چڑھ کر دیکھا مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہ کس قسم کا طرز زندگی ہے جس میں باپ سوئمنگ کے لباس میں ’ملبوس‘ بیکینی پہنی بیٹی کو دیکھ کر تالیاں بجاتا ہے اور پھر یوں ظاہر کرتا ہے جیسے یہ کوئی معیوب بات نہیں۔

یاسر پیرزادہ کے بقول مغربی معاشروں میں یہ عام بات ہے مگر عامر خان بہرحال مغربی نہیں اور اپنی تمام تر آزاد خیالی کے باوجود وہ آج کی تاریخ تک عملاً مسلمان ہیں۔ عامر خان کے اس فعل کے ’دفاع ‘ میں مجھے ایک ہی ’دلیل‘ سوجھی کہ وہ اپنی بیٹی کی آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتے، ان کی بیٹی ایک علیحدہ شخصیت کی حامل عورت ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس قسم کا چاہے لباس پہنتے۔ تکنیکی اعتبار سے تو یہ دلیل درست ہو سکتی ہے مگر یاسر کہتے ہیں کہ اخلاقی اعتبار سے اس میں سقم ہے، شخصی آزادی کے نام پر کیا یہ ضروری تھا کہ جب اس کی بیٹی بکینی پہنے تو عامر خان بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو؟ یہ فیصلہ تو عامر کا اپنا تھا، نہ کہ اس کی بیٹی کا۔
دنیا میں تو ’برہنہ ساحل‘ بھی ہوتے ہیں تو کیا اگلی سالگرہ وہاں بھی منائی جا سکتی ہے؟ یقیناً یہ عامر خان کی فیملی کا ذاتی معاملہ ہے، وہ جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں اپنی پارٹی کر سکتے ہیں مگر عامر چونکہ ایک سلیبرٹی ہیں اور کروڑوں لوگ انکے پرستار ہیں لہٰذا ان کے نظریات، ان کا کردار اور ان کی باتیں لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

عمران کے دوست جاوید آفریدی کا اربوں کا کرپشن سکینڈل

یاسر کے بقول، عامر خان جب اپنی بکینی پہنی ہوئی بیٹی کےساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ بات محض ان کا یا ان کی بیٹی کا ذاتی فعل کہہ کر نظر انداز نہیں کی جا سکتی، یہ ایک سٹیٹمنٹ ہے، جس کی مجھے کم از کم سمجھ نہیں آئی۔

Related Articles

Back to top button