اداکارہ مہیما چودھری کی زندگی ایک بار پھر خطرے میں

بالی ووڈ فلم انڈسٹری کی سابقہ ہیروئین اور مس انڈیا رہنے والی مہیما چوہدری 23 برس قبل ایک خوفناک حادثے میں زندہ بچ جانے کے بعد اب کی بار کینسر جیسے موذی مرض سے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

عمران خان کے سوشل میڈیا مینجرز ارب پتی کیسے بنے؟

اداکارہ 13 ستمبر 1973 کو دارجیلنگ میں پیدا ہوئی تھیں، 1990 میں تعلیم چھوڑ کر ماڈلنگ میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔مہیما چوہدری کو سب سے پہلے ایشوریا رائے کے ساتھ پیپسی کے اشتہار میں دیکھا گیا۔ اسی دوران 1990 کا مس انڈیا مقابلہ حسن بھی جیتا۔

سبھاش گھئی نے اُنھیں بڑا موقع دینے کا سوچا اور اُنھیں اپنی فلم پردیس میں گنگا نامی لڑکی کا مرکزی کردار دے دیا جس میں وہ شاہ رخ خان کے ساتھ نظر آئیں، اس فلم کے گانے اب بھی گائے جاتے ہیں۔

اداکارہ کو پردیس کے لیے ہی فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین نئے فنکار کا ایوارڈ ملا، اس کے بعد وہ کئی فلموں میں آئیں جن میں ‘داغ: دی فائر’ شامل ہے، اس فلم میں اُنھوں نے ڈبل رول ادا کیا، اس کے بعد وہ ‘یہ تیرا گھر، یہ میرا گھر’، ‘اوم جے جگدیش’، ‘دل ہے تمہارا’، ‘دھڑکن’، ‘کرکشیتر’ اور ‘باغبان’ میں نظر آئیں۔

مہیما کو آخری مرتبہ بنگالی کرائم تھرلر ‘ڈارک چاکلیٹ’ میں دیکھا گیا تھا جو 2016 میں ریلیز ہوئی تھی، مہیما نے پردیس فلم سے کئی لوگوں کے دل جیتے، اداکارہ نے کاروباری شخصیت اور ماہرِ تعمیرات بوبی مکھرجی سے 2006 میں شادی کر لی، اس شادی سے ان کی آریانہ نامی ایک بیٹی ہے، 2013 میں ان کی علیحدگی ہوگئی۔

ادکارہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا ہے کہ اُن کے شوہر نے مشکل دنوں میں اُن کا ساتھ نہیں دیا، اب وہ اپنی بیٹی آریانہ کے ساتھ رہتی ہیں، طلاق کے بعد مہیما نے دوبارہ بالی ووڈ میں آنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئیں۔

ماہیما نے بتایا ایک مرتبہ وہ مشہور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پرکاش جھا کے ساتھ اجے دیوگن اور کاجول کی 1999 کی فلم ‘دل کیا کرے’ میں کام کر رہی تھیں اور بنگلور میں تھیں۔ایک دن جب وہ شوٹنگ پر جا رہی تھیں تو ایک ٹرک نے اُن کی گاڑی کو ٹکر ماری، یہ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ گاڑی کے شیشے کے درجنوں ٹکڑے اُن کے چہرے میں پیوست ہوگئے، خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اب وہ زندہ نہ بچ پائیں، مہیما نے انٹرویو میں اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کسی طرح خود ہی ہسپتال پہنچیں کیونکہ کوئی اُنھیں ہسپتال لے جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

وہاں اُن کی والدہ اور اجے دیوگن ان سے ملنے آئے، جب سرجری کے بعد پہلی مرتبہ آئینے میں دیکھا تو وہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں، اُن کے پورے چہرے پر صرف ٹانکے نظر آ رہے تھے، ڈاکٹر نے اُن کے چہرے سے شیشے کے 67 ٹکڑے نکالے تھے، اس حادثے کے بعد اُنھیں خود کا بہت زیادہ دھیان رکھنا پڑا۔

اس حادثے کے بعد مہیما کو فلموں سے دور رہنا پڑا حالانکہ اس وقت اُن کے پاس کئی بڑی بالی ووڈ فلموں کے معاہدے تھے، چہرے پر زخموں کی وجہ سے سب نے اپنے فیصلے بدل لیے اور دیگر فنکاروں کو سائن کر لیا۔

مہیما کے مطابق اس دوران اجے دیوگن نے اُن کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا اور وہ ان سے ملنے آتے رہے، مہیما کو اپنی فلموں میں سے ایک میں کام بھی دیا مگر اس کے بعد چیزیں پہلے جیسی نہیں رہی تھیں، اب مہیما کی زندگی میں ایک نئی مشکل ہے، چھاتی کے کینسر کے باوجود مہیما چوہدری پرعزم ہیں کہ وہ اس مشکل سے بھی اُبھر کر آئیں گی اور دوبارہ بالی ووڈ میں اپنی جگہ بنائیں گی۔

Related Articles

Back to top button