انور مقصود کے سوا 14 اگست کے بعد ساڑھے 14 اگست

یوم آزادی کے حوالے سے تیار کیے گئے خصوصی تھیٹر ’’ساڑھے 14 اگست‘‘ کا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا ہے، جسے معروف لکھاری، ڈراما ساز اور مزاح نگار انور مقصود نے تیار کیا ہے، اسے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر کراچی کی آرٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا، کاپی کیٹ پروڈکشن نے انسٹا گرام پر ’ساڑھے 14‘ اگست کا ٹیزر جاری کرتے ہوئے اسے جشن آزادی کے دن سے کراچی کے آرٹس کونسل میں پیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔

یوم تکبیر کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا

ٹیزر میں ایک فوٹوگرافر کو مہاتما گاندھی اور قائداعظم محمد علی جناح کی ایک ساتھ تصویر لینے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے، ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ فوٹوگرافر دونوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا کہتے ہیں تاکہ ان کی تصویر بہتر آئے، جس پر قائد اعظم مزید قریب ہونے سے معذرت کرتے ہیں۔
ٹیزر میں گاندھی کو کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ تو قائداعظم کے مزید قریب ہونا چاہتے تھے، اسی دوران ٹیزر میں فوٹو گرافر انور مقصود کو ان دونوں شخصیات کے درمیان میں بیٹھنے کا کہتے ہیں، اسی دوران فوٹو گرافر ان دونوں کی تصویر کھینچ لیتا ہے۔ اس ٹیزر کے ساتھ مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں، البتہ بتایا گیا کہ تھیٹر کی ٹکٹس ابھی سے دستیاب ہیں اور اسے 14 اگست سے کراچی آرٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا۔
ساڑھے 14 اگست‘ کے حوالے سے رواں برس فروری میں انور مقصود نے بتایا تھا کہ تھیٹر ڈرامے کی کہانی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی سے کیے گئے کسی شخص کے سوال کے گرد گھومتی ہے، اس سے قبل انور مقصود نے 2011 میں ’ پونے 14 اگست‘ اور پھر ’سوا 14 اگست‘ نامی تھیٹر پیش کیا گیا تھا، جس کا تیسرا حصہ ’ساڑھے 14 اگست‘ اب پیش کیا جائے گا۔
اسی حوالے سے انور مقصود نے فروری میں کہا تھا کہ جب 2011 میں ’پونے 14 اگست‘ ڈراما لکھا تھا تب ان سے پوچھا گیا تھا کہ مکمل 14 اگست کیوں نہیں لکھا؟ تین سال بعد ’سوا 14 اگست‘ لکھا اور پھر سے 14 اگست نہیں لکھا، کیونکہ ان کے خیال میں ابھی 14 اگست آیا ہی نہیں۔
انور مقصود کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال تھا کہ اب وہ ’سوا 14 اگست‘ کے بعد ’14 اگست‘ نامی ڈراما لکھیں گے مگر ایسا نہیں اور’ساڑھے 14 اگست‘ لکھا ہے۔

Related Articles

Back to top button