قائد اعظم زندہ باد’ فلم میں چربہ سازی کا اعتراف جرم

فہد مصطفیٰ اور ماہرہ خان کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘قائد اعظم زندہ باد’ کے پروڈیوسر نبیل قریشی نے اعتراف کیا کہ ان کی فلم کے بعض مناظر ہولی اور بولی وڈ فلموں کی کاپی ہیں جسے چربہ سازی کہا جا سکتا ہے۔ ‘قائد اعظم زندہ باد’ کو عید پر ریلیز کیا گیا تھا، جس میں فہد ایک دبنگ پولیس افسر کے روپ میں دکھائی دیئے۔
اس ایکشن رومانٹک فلم کے متعدد مناظر ایسے تھے جن کو دیکھنے کے بعد لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہالی اور بالی ووڈ فلموں کی کاپی ہیں۔ فلم میں فہد مصطفیٰ کو خود کو فائرنگ سے بچاتے، گاڑی کو تیزی سے گول گول گھماتے اور اڑتے جہاز پر چڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔فلم میں دیگر کئی ایکشن مناظر ایسے بھی تھے، جنہیں دیکھ کر شائقین کو لگا کہ وہ انہیں پہلے بھی کسی فلم میں دیکھ چکے ہیں۔ اب فلم کے ہدایت کار نبیل قریشی نے تسلیم کیا ہے کہ ‘قائد اعظم زندہ باد’ کے بعض مناظر کاپی کیٹ تھے، تاہم بہت سارے ایکشن سین انہوں نے خود بنائے۔
’’فوچیا میگزین ‘‘کو دیے گئے انٹرویو میں نبیل قریشی نے بتایا کہ انہوں نے بولی وڈ نہیں بلکہ ہولی وڈ فلموں کے سین کاپی کیے، کیوں کہ وہ سب سے پہلے ان فلموں میں دکھائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو لگتا ہے کہ انہوں نے روہت شیٹی کی فلم ‘سنگھم’ کے مناظر کو کاپی کیا وہ غلط ہیں، دراصل وہ مناظر ہولی وڈ فلم کے ہیں، جنہیں بھارتی فلم ساز نے بھی کاپی کیا تھا اور اب انہوں نے بھی کاپی کیا ہے۔

اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری میں گرفتار بابر غوری رہا

ان کے مطابق بولی وڈ فلموں کے بہت سارے مناظر ہولی وڈ فلموں کے ہوتے ہیں مگر چوں کہ پاکستانی شائقین نے ہولی وڈ فلمیں نہیں دیکھی ہوتیں، اس لیے انہیں پتا نہیں ہوتا کہ اصل مناظر پہلے کس فلم کے لیے شوٹ ہوئے تھے؟
نبیل نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ‘قائد اعظم زندہ باد’ میں ہولی وڈ فلم ‘میٹرکس’ کے مناظر کو کاپی کرنے سمیت ٹام کروز اور رسل کرو کے مناظر کو کاپی کیا جنہیں بولی وڈ فلم سازوں نے بھی کاپی کیا تھا۔ نبیل قریشی نے دلیل دی کہ ان کی فلم میں شامل ایکشن مناظر ان کے بھی پسندیدہ رہے ہیں اور وہ انہیں دیکھ کر بڑے ہوئے تو انہوں نے انہیں اپنی فلم میں دوبارہ بنا کر شامل کرلیا۔
فلم ساز نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فلم سازوں کے پاس اتنی بجٹ نہیں کہ وہ مہنگے ایکشن مناظر شوٹ کروائیں اور نہ ہی پاکستانی شوبز میں ایسی سہولیات اور اسٹنٹ کرنے والے لوگ ہیں، اس لیے دوسرے فلموں کے بعض مناظر کو کاپی کرکے انہیں دوبارہ تخلیق کرنا ہی پڑتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے فلم میں بعض مناظر کاپی کرکے شامل کیے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی فلم میں شامل بہت سارے ایکشن مناظر بلکل نئے ہیں جو انہوں نے خود تخلیق کیے۔

Related Articles

Back to top button