ڈرامہ ’’میرے ہم نیشں‘‘ میں پشتون روایات مسخ کرنے پر تنقید

ویسے تو پاکستانی ڈرامے مقبولیت میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں لیکن کچھ ڈرامے متنازع سکرپٹ، مناظر کی وجہ سے عوامی تنقید کا بھی نشانہ بن جاتے ہیں، ایسا ہی ایک ڈرامہ ’’میرے ہم نشیں‘‘ بھی ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اس میں ’پختون کلچر کو غلط انداز میں‘ پیش کیا گیا ہے، صارفین نے تنقید کی کہ ڈرامے کے کرداروں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما کر اور دقیانوسی روایات دکھا کر پشتون کمیونٹی کی منفی ترجمانی کی جا رہی ہے۔لیکن ڈرامے کی لکھاری مصباح علی سید نے کہا کہ ابھی صرف چار قسطیں نشر ہوئی ہیں اور کہا جانے لگا ہے کہ اس کی کہانی پشتونوں کیخلاف ہے، ایسا بالکل بھی نہیں ہے، لوگوں کو چاہئے کہ موضوع کو سمجھیں، ہم نے درامے میں صرف ایک خاندان دکھایا ہے، اس میں پورے علاقے کی نمائندگی نہیں ہو رہی۔
مصباح علی سید نے بتایا کہ ڈرامے کی کہانی میں ایک لڑکی دکھائی جا رہی ہے جس کے بچپن میں خاندان میں ایسے حادثات ہوئے جو اس کے ذہن میں رہ گئے، اس کی والدہ کو گردے کی تکلیف ہوئی لیکن علاقے میں خاتون ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال نہیں لے جایا گیا جس کی وجہ سے ان کی موت ہو جاتی ہے، اس لیے وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔
ڈرامے کی لکھاری نے مزید بتایا کہ لڑکی نے اس علاقے میں رہتے ہوئے ایف ایس سی کی ہے لہذا میں نے کہاں دقیا نوسی پن دکھایا ہے۔ اس لڑکی کے ’دا جی‘ نے الیکشن لڑا، اس علاقے میں کالج بنوایا، اس لڑکی کے تایا اور ان کے بڑے بیٹے اس کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اسے شہر لے کر جاتے ہیں اور اسے امتحان دلواتے ہیں۔

استعفے کے مطالبے پر الیکشن کمشنر نے عمران کو ٹھینگا دکھا دیا

انہوں نے ڈرامے کے منفی کردار کے بارے میں بتایا کہ وہ ’صرف ایک منگیتر ہے جو لڑکی کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے، وہ پڑھا لکھا نہیں ہے اس لیے ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ کبھی توڑ پھوڑ کر رہا ہے، کبھی گاڑی کے ٹائر کی ہوا نکال دیتا ہے تاکہ وہ امتحان دینے جا ہی نہ سکے۔ ڈرامے کی لکھاری مصباح علی کہتی ہیں کہ ابھی سے ڈرامے پر بحث شروع ہو گئی ہے لیکن اس میں بہت پوزیٹیویٹی بھی۔موجود ہے۔ یہی لوگ جو ابھی اعتراض کر رہے ہیں، وہ جلد واہ واہ کریں گے کہ میں نےنڈرامے میں کتنی مضبوط لڑکی دکھائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک جگہ پڑھا کہ میرے ڈرامے میں غصیلے اور جوشیلے کرداروں کو پشتونوں کی ایک مخصوص ٹوپی پہنائی گئی ہے، دراصل وہ ٹوپی ڈائریکٹر صاحب کو اچھی لگی اور انہوں نے ایک۔کردار کو دیدی۔ جہاں تک یہ اعتراض ہے کہ اس ڈرامے میں بندوق دکھائی گئی تو کیا ان علاقوں میں شکار نہیں ہوتے؟
مصباح علی سید کا مزید کہنا تھا کہ ڈرامے میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ایک لڑکی نے روایات کو بھی برقرار رکھا اپنی تعلیم کو بھی اور چیزوں کو بھی سمجھا یعنی اگر ہم عورت کو آگے لے کر آتے ہیں تو وہ بہتر فیصلے کرتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button