اداکارہ شازیہ ناز نے خود کو پروڈیوسر سے کیسے بچایا؟

معروف اداکار فیصل قریشی کے ساتھ ڈرامہ سیریل ’’میرا پہلا پیار‘‘ سے شوبز کیرئیر شروع کرنے والی اداکارہ اور ماڈل شازیہ ناز نے انکشاف کیا کہ انہیں ایک فلم میں کام کے لیے پروڈیوسر کو جنسی تسکین فراہم کرنے کی تجویز دی گئی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا، شازیہ ناز نے ایک انٹرویو میں انڈسٹری کے بدنما داغ ’’کاسٹنگ کاؤچ‘‘ کی حقیقت کے بارے بات کی اور کہا کہ یہ لڑکی پر منحصر ہے کہ اسکا رویہ کیا ہوتا ہے اور وہ اپنی عزت بچانے کا فیصلہ کرتی ہے یا کام حاصل کرنے کا سوچتی ہے۔
شازیہ نے پاکستانی انڈسٹری میں ’کاسٹنگ کاؤچ‘ یعنی کام کے بدلے جنسی تسکین جیسے رواج پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ یہ رواج دنیا کے ہر ملک کی تقریبا تمام انڈسٹریز میں موجود ہے۔ شازیہ ناز نے تسلیم کیا کہ پاکستانی شوبز اور فیشن انڈسٹری میں بھی ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کا کلچر موجود ہے مگر یہ لڑکی پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے، شازیہ نے دعویٰ کیا کہ فیشن انڈسٹری میں بھی ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کا رواج موجود ہے مگر وہاں لڑکیوں سے ذیادہ لڑکے اس کا نشانہ بنتے ہیں اور اس بات کا علم ہر کسی کو ہے۔

سدھو موسے والا کے قاتل سلمان خان کو کیوں مارنا چاہتے تھے؟

شازیہ کے مطابق شوبز انڈسٹری میں ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کے کلچر سے سمجھوتہ کرنے والی لڑکیاں بھی موجود ہیں اور اسکے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے والی بھی پائی جاتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بعض لڑکیاں محنت کرنے کی بجائے شارٹ کٹ اپنانے کو ترجیح دیتی ہیں اور پروڈیوسرز کے ساتھ سونے پر تیار ہو جاتی ہے مگر کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی عزت پر سمجھوتا نہیں کرتیں۔
شازیہ ناز خان نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہیں ایک مرد اداکار نے اپنے ساتھ فلم میں کام کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے انہیں پروڈیوسر سے تنہائی میں ملنے کی تجویز دی، ان کے مطابق اداکار نے انہیں بتایا کہ وہ انہیں ہی کاسٹ کرنا چاہتے ہیں مگر اس کا حتمی فیصلہ تو پروڈیوسر ہی کریں گے، اس لیے انہیں تنہائی میں ملنا ہوگا۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ تجویز دینے والے اداکار کو کہا کہ ان کے ساتھ فلم کا اسکرپٹ شیئر کیا جائے اور اگر انہیں پسند آیا تو وہ پوری ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گی لیکن اگر ایسا نہیں کر سکتے تو وہ دوسرے طریقے سے کام حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ شازیہ کے مطابق انہیں پروڈیوسر سے تنہائی میں ملنے کی تجویز دینے والے مرد اداکار کے بات کرنے کا انداز ہی اور تھا، جس سے ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کے اشارے مل رہے تھے، اس لیے انہوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے بات کو ختم کر دیا، اداکارہ نے بتایا کہ اسی طرح دوسری خواتین بھی ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کے رواج کو ختم کر سکتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button