“کارما” نامی پاکستانی فلم کاروں میں ہی کیوں فلمائی گئی؟

نئی پاکستانی فلم “کارما” اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس کی 70 فیصد شوٹنگ گاڑیوں میں ہوئی ہے۔ ’’کارما‘‘ میں ناچ گانے، اور مزاح، سمیت تھرل کا عنصر بھی موجود اور کہانی ان گنت موڑ لیتی رہتی ہے۔ فلم کی کاسٹ میں ژالے سرحدی، نوین وقار، اُسامہ طاہر، پارس مسرور شامل ہیں جبکہ عدنان صدیقی اور ارجمند رحیم بطور مہمان اداکار نظر آئیں گے۔
فلم کے ہدایتکار کاشان آدمانی کے مطابق ’’کارما‘‘ کو انگریزی میں K سے نہیں بلکہ C سے لکھا گیا ہے کیونکہ اس کی فیصد سے زیادہ شوٹنگ گاڑیوں کے اندر ہی ہوئی ہے، فلم کے نام کی وجہ سے اس کے وہ سین بھی گاڑی میں عکس بند کیے گئے جو کسی گھر یا کمرے میں بھی ہو سکتے تھے، لیکن ایک الگ آئیڈیا تھا جو اچھا بھی تھا اور اچھوتا بھی۔ ہدایتکار کاشان آدمانی اور مصنف فواد حئی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ فلم کی کہانی پیاز کی طرح تہہ در تہہ کھلتی ہے اور آخر تک اس میں نت نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں، فلم کی کہانی شروع سے آخر تک دیکھنے والے کو باندھ کر رکھتی ہے، فلم کا ایک ایک سین کہانی سے جڑا ہوا ہے جس سے اس کے لطف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ریشم کس حرکت کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئیں؟

لیکن فلم کی کہانی بار بار ماضی میں جھانک کر حال سے اس کا ناطہ جوڑتی ہے جو دیکھنے والے کو اُلجھن میں ڈال سکتا ہے کیونکہ ایسے میں فلم کو مکمل توجہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور ایک سین بھی مس ہو جانے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے کہانی مس کر دی، یہ اصل میں ہے تو ہالی وڈ کا انداز لیکن پاکستانی فلم کے ناظر اسے پسند نہیں کرتے۔
کارما کی کامیابی کے لیے کسی خاص فارمولے یا کسی ایک اداکار پر انحصار نہیں کیا گیا، اگرچہ فلم میں کافی منجھے ہوئے اداکار موجود ہیں، اداکاری کی بات کریں تو ژالے سرحدی ایک جرائم پیشہ گروہ کی سرغنہ کا کردار کررہی ہیں، اس مناسبت سے ان کا انداز، مکالمے اور اداکاری دلچسپ ہے، اس ضمن میں اپنے پہناوے کا بھی دھیان رکھا ہے جو فلم سے مطابقت رکھتا ہے۔ نوین وقار نے فلم کا آغاز اور انجام دلچسپ انداز میں کیا لیکن درمیان میں کچھ مقامات پر وہ کردار سے کچھ باہر نظر آئیں، فلم میں سب سے بہترین اداکاری پارس مسرور کی دیکھنے کو ملی، ان کا کردار آہستہ آہستہ کھلتا چلا گیا اور آخر میں محسوس ہوا کہ گویا یہی مرکزی کردار ہے۔، اُسامہ طاہر نے بھی ابتدا میں اچھی اداکاری کی لیکن اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کٹوانے کے بعد کے سین اس سے کچھ مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن مجموعی طور پر کسی کی اداکاری کو خراب نہیں کہا جا سکتا، اس فلم میں برطانوی گلوکارہ لِلّی کیسلی بھی ہیں جنہوں نے فلم میں اُسامہ طاہر کی گرل فرینڈ کا کردار کیا ہے، ان ہی کا ایک گیت ’اِٹس یو‘ بھی اس کے ساؤنڈ ٹریک کا حصہ ہے۔
اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں ہوئی ہے جبکہ چند سین لندن میں بھی فلمائے گئے ہیں۔ کاشان آدمانی کے مطابق یہ فلم تقریباً تین کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہوئی ہے اور اس کی مکمل عکاسی 24 دن میں کرلی گئی تھی جس میں سے لندن میں صرف دو دن کام کیا گیا تھا۔ فلم کی پس پردہ موسیقی کافی عمدہ ہے، ایکشن سین اور کار چیزنگ میں موسیقی کافی جاندار ہے جس کا سینیما میں کافی مزہ آتا ہے۔ فلم میں کار چیزنگ اور گاڑی کو آگ لگا کر اڑانے کا سین بہت ہی عمدگی سے شوٹ کیا گیا ہے، کم از کم پاکستانی فلموں میں یہ کافی جدت لائے گا، فلم میں جو مسائل ہیں اس میں انگریزی کا زیادہ استعمال ہے، لیکن جس پیمانے کا تشدد اور کشت و خون دکھایا گیا ہے، اس کے تناظر میں فلم میں زبان کافی مہذب رکھی گئی ہے، اس کے باوجود بھی فلم کو صرف بالغوں کیلئے نمائش کا سرٹیفکیٹ ملا ہے۔

Related Articles

Back to top button