سشمیتا سین اورانکا بوڑھا عاشق سوشل میڈیا پرزیر تنقید

سابق حسینہ عالم سشمیتا سین اور ان کا بوڑھا عاشق للت مودی سوشل میڈیا پر صارفین کی تنقید کی زد میں آگئے ہیں کیونکہ انہیں یہ جوڑی پسند نہیں۔ آئی ای آئی آئی پی ایل کے بانی للت مودی اور مس یونیورس کا اعزاز حاصل کرنے والی بالی ووڈ سٹار سشمیتا سین کی اکٹھے تصاویر نے سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان کھڑا کر دیا ہے، کئی سوشل میڈیا صارفین نے سشمیتا سین کو گولڈ ڈگر gold digger یعنی سونے کی متلاشی ایک لالچی عورت قرار دے دیا۔ سشمیتا نے ایسے لوگوں کی ذہنیت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا، اس دوران سشمیتا سین نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کیسے ہمارے ارد گرد کی دنیا مایوس اور منحوس ہوتی جا رہی ہے۔ سشمیتا سین نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا کہ بے تکی باتیں کرنے والے نام نہاد دانشور، جہالت سے بھرپور گھٹیا اور مزاحیہ گپ شپ کرنے والے، وہ لوگ جو کبھی بھی میرے دوست نہیں رہے یا جن سے میں کبھی نہیں ملی، سبھی میری زندگی اور کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، دراصل وہ خود بھی مجھ جیسی ’گولڈ ڈگر‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

پنجاب کے ضمنی الیکشن PTI کے لیے ایک بڑا چیلنج

سابق مس یونیورس نے لکھا کہ میں گولڈ سے آگے کی بات کرتی ہوں، مجھے ہمیشہ سے ہیرے پسند ہیں اور آج بھی میں انہیں خود خریدتی ہوں، میرے سبھی خیر خواہوں کی حمایت ملنا اچھا لگا، میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کی آپ کی سُشمیتا بالکل ٹھیک ہے کیونکہ وہ کبھی اس دھندلی روشنی پر انحصار نہیں کرتی جو دوسروں کے قبول کرنے پر ہی آپ کو ملتی ہے، میں خود ایک سورج ہوں، میں اور میرا ضمیر میرے لیے اہم ہیں۔!

اداکارہ راکھی ساونت نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ پیسے لے کر بھاگیں گے تو بڑی بڑی ہیروئنیں تو ملیں گی ہی، پیسے نہ ہوں تو پھر کون پوچھتا ہے، آج کل شکل اور عقل کون دیکھتا ہے؟ گوپال داس نیرج نامی ٹوئیٹر صارف نے لکھا کہ پیار ایک قسم کی سرمایہ داری ہے، لڑکیوں کے خوابوں میں شہزادے آتے ہیں مزدور نہیں، ٹوئٹر صارف کرونا ندھی کنن نے لکھا اگر آپ گولڈ ڈگر نہیں ہیں تو للت مودی کو بھارت واپس لے کر آئیں۔ چھپنا کیسا؟ یاد رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کے بانی للت مودی کرپشن اور فراڈ کے کیسز میں پھنسنے کے بعد بھارت سے فرار ہو کر بیرون ملک جا بسے ہیں۔ سشمیتا اور للت مودی کی حالیہ ملاقات بھی لندن میں ہی ہوئی تھی جہاں انہوں نے اکٹھے چھٹیاں گزاریں۔

ٹوئٹر ہینڈل تووی جے پرکاش نے سشمیتا کو مخاطب کر کے کہا کہ للت بھگوڑا ہے، اس کے پاس ڈالرز ہونے کی وجہ سے ہی آپ کا اس کے ساتھ رشتہ ہے، یہ گولڈ ڈگر ہونا ہی ہے۔ لیکن سشمیتا سین کی پوسٹ پر ان کی حوصلہ افضائی کرتے ہوئے اداکارہ پرینکا چوپڑا نے لکھا کہ ’انہیں بتا دو کوئین! کیا سرجیکل سٹرائیک یاد ہے، گھر میں گھس کر مارا تھا، دا میموسا ہینڈل سے ایک صارف نے ٹوئیٹ کیا جو لوگ سشمیتا سین کے ایک عمر دراز شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا مذاق اُڑا رہے ہیں اور انہیں گولڈ ڈگر کہہ رہے ہیں، کیا وہ جانتے ہیں کہ اس سے قبل وہ خود سے 15 برس چھوٹے لڑکے کے ساتھ رشتے میں تھیں۔ کیا وہ رشتہ بھی پیسوں کے لیے تھا؟ نہیں، ایسا نہیں تھا۔ سوچی ایس اے نامی صارف نے لکھا کہ انڈین والدین جو خود اپنے بیٹوں کو جہیز کے بغیر شادی نہیں کرنے دیتے وہ سشمیتا سین کو گولڈ ڈگر کہہ رہے ہیں، اسی طرح ایک صارف انو متل نے لکھا اگر سشمیتا سین گولڈ ڈگر ہیں تو آپ ان مرد حضرات کو کیا کہیں گے جو جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور شادی کے بعد سسرال سے پیسے مانگتے ہیں؟ ڈاکٹر سونالی وید نے لکھا کہ میں سشمیتا سین کی اس لیے تعریف کرتی ہوں کہ کس طرح مس یونیورس کے سٹیج پر کہی جانے والی باتوں کو وہ اپنی زندگی میں جی کر دکھاتی ہیں، اگر ہم ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ تعلقات کے سبب کسی آزاد، معروف،خوبصورت اور دولت مند لڑکی کو گولڈ ڈگر کہتے ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ بحیثیت سماج ہماری بہت بُری حالت ہے۔

یاد رہے کہ یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب للت مودی نے ٹوئٹر پر انکشاف کیا کہ وہ اور اسشمیتا اکٹھے چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ للت مودی نے چند تصاویر شئیر کرتے ہوئے اپنے اور سشمیتا کے تعلق کے بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا تھا، اس کے بعد ایک اور ٹوئیٹ کرتے ہوئے للت نے لکھا کہ ’صرف واضح کرنے کے لیے بتا رہا ہوں کہ ہماری شادی نہیں ہوئی، ہم صرف ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے ہیں، لیکن جلد شادی ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ للت مودی ایک بڑی کاروباری شخصیت بھی ہیں لیکن انڈیا میں ان کے خلاف چل رہے فراڈ کے مقدمات کے سبب وہ ایک طویل عرصے سے لندن میں مقیم ہیں، انڈین پریمیئر لیگ کے دوران گھپلے اور دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے دوران غلط طریقہ کار اختیار کرنے کے الزامات کے پر 2010 کے آئی پی ایل کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button