جاوید میانداد کا جواری کھلاڑیوں کو پھانسی کا مطالبہ

وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست وسیم اکرم سمیت میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کے مطالبے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ مختلف تجزیہ کار اور ماہرین فکسنگ کرنے والے کرکٹرز سے عہدے واپس لینے کا تو مطالبہ کر رہے تھے تاہم اب کپتان کے ساتھی اور سابق کپتان جاوید میانداد نے چند پیسوں کی خاطر ملک کی عزت کا سودا کرنے والے کھلاڑیوں اور بکیز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سابق ٹیسٹ کپتان اور عظیم بیٹسمین جاوید میانداد نےفکسنگ میں ملوث کرکٹرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سلیم ملک، عطا الرحمان اور دیگر کرکٹرز نےچند پیسوں کیلیےملک کا نام بیچا۔ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ سے قانون بنوائیں اور میچ فکسنگ کا جرم کرنے والے کھلاڑیوں اور بکیز کو قانونی طریقے سے پھانسی دلوائیں۔
جاوید میانداد نے کرکٹ بورڈ حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جسٹس قیوم کمیشن نے جن کرکٹرزکو پی سی بی سے دور رکھنے کا کہا آج بھی وہ بورڈ سے جڑےہوئے ہیں۔ جن سابق کرکٹرز پر تھوڑا سا بھی شک تھا،انھیں کرکٹ بورڈ میں نہیں ہوناچاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا قانون ہونا چاہیے کہ کسی کرکٹرمیں ہمت نہ ہو کہ وہ فکسنگ کرسکیں، جب تک بکیز کو سزا نہیں ہوگی، کھلاڑی ایسے ہی اسپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ کرتے رہیں گے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کرکٹ کھیل چکے ہیں اس لیے وزیراعظم کو سخت ایکشن لینا چاہیے کیوں کہ پاکستان میں جواری کرکٹرز کمزور قوانین کی وجہ سے بچ نکلتے ہیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ فکسنگ میں ملوث کھلاڑی ملک کے ساتھ اپنےخاندان اور مداحوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق کرکٹرعطا الرحمٰن آج رو رو کر بتا رہا ہے کہ مجھے پھنسایا گیا۔ عطا الرحمٰن کو اس وقت پیسوں کا لالچ دے کر میچ فکسنگ پر اکسایا گیا اور اب اسے پچھتاوا ہے۔ یاد رہے کہ عطاالرحمان نے جسٹس قیوم کمیشن کے ساتھ کہ سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اسے وسیم اکرم نے ایک میچ میں خراب بولنگ کروانے کے عوض تین لاکھ روپے رشوت دی تھی۔
دوسری طرف جاوید میانداد نے مزید کہا کہ 1999 میں انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ اس لیے چھوڑی کہ انکو اندازہ ہوگیا تھا کہ میچ فکسنگ ہورہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے جسٹس قیوم کمیشن کو میچ فکسنگ سےمتعلق سب کچھ بتایا لیکن تمام جواری کھلاڑی بچ نکلے۔ آج بھی جواری کرکٹرز کمزور قوانین کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔
میاں داد نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ دعووں سےنکل کراب عمل درآمد کرے۔
یاد رہے کہ جاوید میانداد 1999 میں وسیم اکرم کی قیادت میں ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کررہے تھے جس میں قومی ٹیم نے ورلڈ کپ فائنل تک رسائی حاصل کی تھی لیکن پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں فائنل میں ڈرامائی انداز میں شکست ہوگئی تھی۔ جاوید میانداد نے ورلڈ کپ کے دوران ہی اپنی ٹیم کے جوئے میں ملوث ہونے کی خبریں ملنے کے بعد کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فکسنگ کی وجہ سے استعفیٰ دیا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت فکسنگ میں کون کون ملوث تھا اور انھوں نے ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے کی بجائے استعفے کو کیوں ترجیح دی۔
واضح رہے کہ میچ فکسنگ سکینڈل دوبارہ خبروں میں آنے کے بعد جہاں تجزیہ کار سلیم ملک کو کرکٹ بورڈ میں کوئی ذمہ داری دینے کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں وہیں میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث وسیم اکرم اور انضمام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں سے عہدے واپس لینے اور ان کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ نوے کی دہائی میں میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے پر صدرِ پاکستان کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم پر مشتمل ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا تھا کمیشن نے اپنی سفارشات میں سابق کپتان سلیم ملک اور فاسٹ بالرعطاء الرحمن پر تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ انکوائری کمیشن نے سلیم ملک کو کرکٹ سے متعلقہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی کردار نہ دینے کی سفارش بھی کی تھی۔ کمیشن نے سابق کپتان وسیم اکرم کے کردار کو بھی مشکوک قرار دیا تھا اور انہیں تین لاکھ روپے جرمانہ کرنے اور کپتانی سے ہٹانے کی بھی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے وقار یونس، مشتاق احمد، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعید انور کو بھی جرمانے کیے تھے اور انھیں مستقبل میں کوئی بھی ذمہ داری نہ دینے کی تجویز دی تھی تاہم سلیم ملک پر تو پابندی برقرار رہی لیکن باقی کھلاڑیوں پر نوازشات کا سلسلہ جاری رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button