کیا قطرمیں فٹ بال ورلڈ کپ اسلامی اندازمیں ہوگا؟


رواں برس قطر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں دنیا بھر سے آنے والے شائقین کو وہ رونقیں دیکھنے اور عیاشیاں کرنے کو میسر نہیں ہوں گی جو کہ عام طور پر یورپی ممالک میں دستیاب ہوتی ہیں، قطر میں اسلامی قوانین نافذ ہونے کی وجہ سے یورپی ممالک سے جانے والے شائقین کے لیے سب سے بری خبر یہ ہے کہ انہیں وہاں شراب میسر نہیں ہو گی۔قطر میں شراب نوشی، جوئے، ہم جنس پرستی اور عریانی کے حوالے سے سخت قوانین نافذ ہیں۔ ایک بار جو اس ملک میں آگیا اس پر یہیں کے قانون کا اطلاق ہوگا، پھر چاہے وہ فٹ بال دیکھنے ہی کیوں نہ آیا ہو، اسے بھی خلاف ورزی پر سزا ملے گی، یاد رہے کہ یورپی ممالک میں فٹبال اور شراب نوشی کو لازم و ملزوم قرار دیا جاتا ہے لیکن قطر میں یہ سہولت میسر نہیں ہو گی۔ قطر میں شراب پینے یا فراہمی کا ذریعہ بننے پر 3 سے 5 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہے، عوامی مقامات پر غیر اخلاقی حرکات یا اشارے بازی میں بھی زیادہ سے زیادہ 3 سال کی قید ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں، قطر آنے والے شائقین کے لیے کپڑوں سے متعلق قوانین بھی مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوا کھیلنا بھی قطر میں سخت ممنوع ہے، اگر کوئی غیر ملکی اسے کھیلے گا تو اسے 3 سے 6 ماہ کی قید اور تقریباً ایک ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔کہا جاتا ہے کہ قطر کا عالمی کپ کی میزبانی کے لیے اپنا نام پیش کرنے کا اصل مقصد عرب ممالک اور مغرب کے درمیان رابطہ قائم کرنا تھا مگر ممالک نے قطر کے اس ارادے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ قطر مغربی دنیا کے لیے ایسا ملک نہیں ہے جہاں عالمی کپ کے انعقاد سے اس ملک میں فٹ بال کو پذیرائی ملے گی۔ جس سال قطر نے اپنا نام دیا اسی سال دوحہ میں ارجنٹینا اور برازیل کی ٹیموں کا دوستانہ میچ بھی کروایا گیا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ اگر قطر کو عالمی کپ کی میزبانی کا موقع دیا جائے تو وہ بہترین ٹورنامنٹ اپنے ملک میں کروا سکتا ہے۔ لہٰذا تمام تر مخالفت کے باوجود فیفا نے دسمبر 2010ء میں قطر کو 2022ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی ذمہ داری سونپ دی۔

فیفا نے اس فیصلے کے ناقدین کو یہ وضاحت دی کہ جب 2006ء کے ایشین گیمز کی میزبانی قطر کرسکتا ہے تو تمام انتظامات اور تیاری کے بعد قطر عالمی کپ کی بھی میزبانی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ایک سب سے اہم عنصر جو قطر کو دیگر عالمی کپ سے مختلف بنا رہا ہے، وہ ہے موسم۔یہ وہ پہلا موقع ہے جب فیفا ورلڈکپ کا انعقاد موسمِ گرما کے بجائے سرما میں ہو رہا ہے۔ موسمِ گرما میں قطر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر ہی رہتا ہے۔ اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ٹھنڈے ممالک سے قطر آنے والی ٹیموں پر موسم کس طرح اثرانداز ہوگا۔ موسمِ گرما میں یہاں ہوا میں نمی کا تناسب بھی کم رہتا ہے جو فٹ بال کھیلنے کے لیے بہترین موسم تصور نہیں کیا جاتا، نومبر دسمبر کے مہینوں میں قطر کا درجہ حرارت 21 سے 26 ڈگری کے درمیان رہتا ہے جو قابلِ برداشت ہے ساتھ ہی عالمی معیارات کے اسٹیڈیم بنانے والے قطر نے ان میں ایئرکنڈیشن بھی نصب کیے ہیں تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کو موافق ماحول فراہم کیا جاسکے۔

فٹبال کی کوریج کے لیے قطر نے پوری دنیا میں موجود کئی میڈیا ہاؤسز کو کوریج کی اجازت دی ہے، ان کے لیے نہ صرف تمام تر سہولیات سے آراستہ میڈیا سینٹر بھی بنایا ہے بلکہ انہیں ہر طرح کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، مگر جن اداروں کو اجازت نہیں ملی وہ اس عالمی میلے کی کوریج نہیں کرسکتے۔ یعنی جن کے پاس قطری حکومت کا اجازت نامہ نہیں ہوگا، اگر وہ ویڈیوز بناتے ہوئے پائے گئے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح شائقین کے لیے بھی یہ پابندی ہے کہ وہ قطر کی عمارتوں اور دیگر مقامات کے مناظر کیمرے میں عکس بند نہیں کرسکتے۔ نئے قوانین کے مطابق، بین الاقوامی براڈکاسٹرز کو جن چیزوں کی فلمنگ کی اجازت ہوگی ان کی حدود کا تعین بھی قطری حکام کریں گے۔ ہم جنس پرستوں کی حمایت اور قطر کی ثقافت اور اسلامی قوانین کے خلاف کوریج ممنوع ہوگی۔

قطر اپنی نامزدگی کے بعد سے ہی تنازعات کی زد میں ہے اور اب قطر کو نامزد کرنے والے فیفا چیئرمین کا بھی اپنے فیصلے پر افسوس کرنا قطر کو مشکل میں ڈال رہا ہے، 17 سال تک فیفا کے چیئرمین رہنے والے سیپ بلاٹر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں قطر کی نامزدگی کے فیصلے کو غلطی قرار دیا، اس بیان کو ان ممالک نے اعتراف کے طور پر لیا جو پہلے ہی قطر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

Related Articles

Back to top button