فٹبال ورلڈ کپ 2022، قطر کا شائقین کو روایتی خیموں میں ٹھہرانے کا فیصلہ

فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کرنے والے ملک قطر نے12 لاکھ شائقین کو روایتی خیموں میں ٹھہرانے کا فیصلہ کیاہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹورنامنٹ کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں رہائش کے انتظامات کے ذمے دار عہدیدار عمر الجبرنےپریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ شائقین کو خیموں میں ٹھہرانے کے آپشن کی آئندہ دو ہفتوں میں آزمائش شروع کردی جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے نورعالم خان اورراجہ ریاض کا میچ

عمرالجبرنے کہا کہ یہ شائقین کو کیمپنگ کا مزہ دے گی، ہم لوگوں کو روایتی بدوی انداز میں صحرا اور ٹینٹ کے تجربے سے لطف اندوز کرانا چاہتے ہیں، اس ٹینٹ میں پانی، بجلی اور باتھ روم کا انتظام بھی ہوگا البتہ شدید گرم موسم کے حامل اس ملک میں ٹینٹ میں ایئرکنڈیشنر کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ 200 ٹینٹوں پر مشتمل ایک اور پرتعیش کیمپ الگ سے بھی لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور انہیں ’سی لائن‘ نامی ساحل کے کنارے لگایا جائے گا۔

ٹورنامنٹ کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں رہائش کے انتظامات کے ذمے دار عہدیدار عمر الجبر نے کہاملک میں رہائش کے حوالے سے غیر ملکی مداحوں کے تحفظات کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے عمر الجبر نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے موقع پر رہائش کے لیے ایک لاکھ کمرے دستیاب ہوں گے۔ ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین کو یہ سہولت میسر ہوگی کہ وہ اپنی آسانی کے مطابق مخصوص ٹورنامنٹ ولیج، اپارٹمنٹ، ولاز، کیبن یا دو کروز پر رہائش لے سکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا منتظمین ہوٹل کے کمروں کی بڑی تعداد پہلے ہی ٹیموں، ریفریز اور میڈیا کے لیے بُک کر چکے ہیں تاہم کوئی کمرہ خالی ہوا تو فیفا کی انتظامیہ اسے ہمارے سپرد کردے گی،تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کمروں کی کمی نہیں پڑے گی کیونکہ بڑی تعداد میں ہوٹل زیر تعمیر ہیں جو جلد مکمل ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ عالمی کپ رواں سال 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں منعقد ہوگا اور یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ جون،جولائی کے روایتی سیزن کے بجائے سردیوں کے موسم میں منعقد ہو رہا ہے،سردیوں میں ایونٹ کے انعقاد کی وجہ کھلاڑیوں کو قطر کی شدید گرمی سے بچانا ہے کیونکہ اکثر کھلاڑی جون اور جولائی میں عرب ملک میں کھیلنے سے انکار کر چکے تھے جہاں اکثر درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔

Related Articles

Back to top button