لیجنڈری ہاکی پلیئرمنظورجونیئر گولڈن بوائے کیوں کہلائے؟

ہاکی کے میدان میں ’’گولڈن بوائے‘‘ کے نام سے پہچان بنانے والے لیجنڈری پلیئر منظور جونیئر کا اصل نام ’’منظور حسین‘‘ تھا اور وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے، منظور 1970 اور 1980 کی دہائی میں پاکستانی ہاکی کے سر کا سہرا سمجھے جاتے تھے۔ مرحوم کا شمار ان پلیئر میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو بام عروج پر پہنچایا۔ اتفاق کی بات ہے کہ انتقال کے وقت منظور جونیئر پاکستانی قومی ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر تھے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق عہدیدار اور سینئر سپورٹس رپورٹر اعجاز چوہدری اپنی یادداشتوں کو جمع کرتے بتاتے ہیں کہ منظور جونیئر ایک ڈریمر کھلاڑی تھے، سابق کپتان نے ہاکی کے گرائونڈ میں ہر پوزیشن پر اپنا لوہا منوایا، سٹرائیکر، سٹیمر، گولر یا ڈیفنس، عوام نے انہیں ہر پوزیشن اور ہر روپ میں کھیلتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے خود کو ایک لیجنڈری پلیئر ثابت کیا۔اعجاز چوہدری کہتے ہیں کہ اگر پاکستان ہاکی کی آل ٹائم ٹیم ترتیب دی جائے اور گیارہ بہترین ہاکی پلیئرز کو چنا جائے تو منظور جونیئر کے بغیر وہ ٹیم ادھوری رہے گی۔

حکومت پاکستان نے منظور جونیئر کو 1984 میں پرائیڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے نوازا تھا، انہوں نے بین الاقومی ہاکی میچوں میں کل 86 گول کیے، منظور جونیئر کے کریڈٹ پر تاریخ کے بہترین میچز بھی ہیں جن کے دوران انہوں نے شائقین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ 1984 کے اولمپکس میں منظور جونیئر پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان تھے، لاس اینجلس میں ہونے والے ان مقابلوں میں مرحوم نے پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا تھا۔

لیبیا میں مسلح گروپوں کےمابین جھڑپوں میں 32 افراد ہلاک ہوگئے

اس سے پہلے ہاکی کے جونیئر ورلڈ کپ میں منظور جونیئر نے 1979میں جونیئر ٹیم کے کیپٹن کی حیثیت سے شرکت کی اور وہاں بھی پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا، وہ 1978 میں بھی ہاکی ورلڈکپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔

ایشینز گیمز ہوں یا ورلڈ کپ ہو یا اولمپکس، منظور جونیئر نے ہر سیٹ اپ میں شاندار پرفامنس کا مظاہرہ کیا، 1982 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں منظور چودھری عرف منظور جونیئر نے ایک ناقابل یقین گول بھی کیا تھا جب وہ ایک ہاف سے گیند لے کر دوسرے ہاف میں گئے اور چھ جرمن کھلاڑیوں کو ڈاج کرتے ہوئے گول کر دیا تھا، یہ منظر دیکھنے کے لائق تھا بلکہ ایک طرح سے ناقابل یقین تھا۔1978 اور 1979 میں اوپر نیچے چیمپئینز ٹرافی جیت کر پاکستان نے ہاکی میں ورلڈ ریکارڈ بنایا تو اس میں بھی منظور جونیئر کا کلیدی کردار تھا، اسی لیے انہیں ہاکی کی دنیا میں گولڈن بوائے کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

ان کا نام منظور حسین چوہدری سے منظور جونیئر اس لیے پڑا کہ جب منظور قومی ہاکی ٹیم میں آئے تو ان سے پہلے ایک اور منظور پہلے ہی ٹیم کا حصہ تھے چنانچہ انہیں منظور سینئر کا نام دے دیا گیا جبکہ منظور حسین کو منظور جونیئر کا نام دیا گیا۔ بعد میں وہ خود بھی سینئر ہوگئے لیکن ان کے نام کے ساتھ جونیئر ہی لگا رہا، وہ کہتے تھے کہ اس نام نے انہیں پہچان دی ہے اور انہیں یہ نام پسند ہے۔ منظور جونیئر کے دو بھائیوں مقصود حسین اور محمود حسین نے بھی بعد میں ہاکی کے میدان میں طبع آزمائی کی اور کئی بین الاقوامی ہاکی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔

Related Articles

Back to top button