خیبر ایجنسی کا شاہد آفریدی دنیائے کرکٹ کا ’’بوم بوم‘‘ کیسے بنا؟

صرف 19 برس کی عمر میں بطور سپن بائولر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے والے جارحانہ بلے باز شاہد خان آفریدی نے 20 برس تک ملک کیلئے کرکٹ کھیلنے کے بعد اب بالآخر آرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لالہ نے 1996 سے 2016 تک پاکستان کیلئے 524 ٹیسٹ، ون ڈے اورٹی ٹوئنتٹی میچز کھیلے۔ شاہد آفریدی حال ہی میں پی ایس ایل 2022 کے دوران ایکشن میں نظر آئے، ابتدائی میچ نہ کھیل سکنے کے بعد وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے میدان میں اترے لیکن چند میچ کھیلنے کے بعد ہی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے دستبردار ہوگئے، اس موقع پر ایک جذباتی پیغام میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ طبیعت اجازت نہیں دے رہی کہ مزید گراؤنڈ میں رہ سکوں۔

انٹرنیشنل کیریئر کی ابتدا سے ہی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہو جانے والے شاہد آفریدی نے17 برس تک تیز ترین سنچری کا اعزاز اپنے نام رکھا، اپنے کیریئر کے دوران ہر مرحلے پر انہیں یہ انفرادیت حاصل رہی کہ جب وہ کھیلنے کے لیے میدان میں موجود ہوتے تو فینز کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ پرفارم کریں گے یا نہیں، گراؤنڈ میں بوم بوم اور لالہ کے نعروں کی گونج باقی آوازوں پر غالب رہتی تھی۔1947-48 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی کشمیر جنگ میں حصہ لینے پر ’غازی کشمیر‘ کا لقب پانے والے صاحبزادہ عبدالباقی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی موجودہ ضلع خیبر اور سابقہ خیبرایجنسی کے علاقے وادی تیراہ میں پیدا ہوئے۔

اکتوبر 1996 میں چار ملکی سیریز میں مشتاق احمد کی ریپلیسمنٹ کے طور پر ٹیم کا حصہ بننے والے لالہ کو پہلے میچ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، اگلے میچ میں وہ سری لنکا کے خلاف تیسرے نمبر پر کھیلنے کے لیے میدان میں اترے اور انٹرنیشنل کرکٹ کی اپنی پہلی ہی اننگز میں تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کرگئے۔ اس میچ میں انہوں نے 11 چھکے لگا کر ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ برابر کیا، پاکستان نے اس وقت ون ڈے کرکٹ کا دوسرا سب سے بڑا مجموعہ ترتیب دیا، نتیجتا آفریدی مین آف دی میچ قرار پائے۔ اس کے بعد شاہد خان آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں ٹیم کی نمائندگی کی، قومی ٹیم کے کپتان رہے۔ عالمی کپ سمیت مختلف مقابلوں میں ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے جہاں نئے ریکارڈز اپنے نام کیے وہیں کرکٹ فینز کے لیے بھی جوش و خروش کے اظہار کی وجہ بنے رہے۔

ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے شاہد خان آفریدی اپنے کیریئر کے دوران جنوری 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے اس وقت پابندی کا نشانہ بنے تھے جب ان پر الزام لگا کہ انہوں نے گیند چبا کر بول ٹیمپرنگ کی کوشش کی ہے۔لالہ کا اتارچڑھاؤ سے بھرپور انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر اس وقت اختتام کو پہنچا جب پاکستان 2016 میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ سٹیج سے ہی باہر ہو گیا، اس موقع پر شاہد آفریدی نے کپتانی سے دستبردار ہوتے ہوئے ریٹائرمنٹ نہ لینے کا اعلان کیا لیکن پھر وہ قومی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے، جس کے بعد 19 فروری 2017 کو انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

سال 2018 میں سیلاب سے متاثرین کے لیے ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ الیون کی کپتانی کے لیے لالہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے اور میچ کے بعد 31 مئی 2018 کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرڈ ہو گئے۔ پی ایس ایل کی تین مختلف ٹیموں کا حصہ رہنے والے شاہد خان آفریدی انڈین پریمیئر لیگ میں بھی ایک سیزن کھیل چکے ہیں جہاں وہ بیٹنگ کے شعبے میں تو خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے لیکن بولنگ کے شعبے میں نسبتا اچھی کارکردگی دکھائی۔

اپنی جارحانہ کرکٹ کی وجہ سے جداگانہ شناخت حاصل کرنے والے شاہد خان آفریدی چیریٹی کے شعبے میں بھی فعال ہیں، جہاں وہ دیگر فلاحی تنظیموں سے معاونت کے ساتھ اپنی فلاحی تنظیم بھی چلاتے ہیں، ان کی فلاحی کوششوں کا صلہ تھا کہ 2015 میں شاہد خان آفریدی کو 20 چیریٹیبل ایتھلیٹس کی فہرست کا حصہ بنایا گیا۔ یکم مارچ 2022 کو 45 برس کے ہونے والے آفریدی اب انٹرنیشنل کرکٹ کے گراؤنڈز میں بھی فعال نہیں رہے لیکن ان کے فینز اپنے پسندیدہ کھلاڑی کو یاد کرنا نہیں بھولتے اور میچز کے دوران اہم مواقعوں پر شاہد آفریدی کے پوسٹرز اٹھائے نظر آتے ہیں۔

How did Shahid Afridi become boom boom of cricket world? video

Related Articles

Back to top button