ویمن فٹ بال کپتان ماریہ خان ایک ہی کک مشہور ہوگئیں

پاکستانی سکواش کے پہلے سپر سٹار ہاشم خان کی نواسی اور قومی ویمن فٹ بال ٹیم کی کپتان ماریہ خان نے سعودی عرب کے خلاف ایک حالیہ میچ میں ایسی تاریخی کک لگائی کہ نہ صرف میچ کو ڈرا کر دیا بلکہ پاکستان ایونٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سعودی عرب کو اس میچ میں ایک صفر کی برتری حاصل تھی جب پاکستان کو 65ویں منٹ میں ایک فری کِک ملی جس پر پاکستان کی کپتان ماریہ خان نے دور سے ہی گول کو اپنا ہدف بناتے ہوئے ایک شاندار گول کر کے میچ برابر کر دیا۔ اس گول کی بدولت پاکستان نے میچ برابر کرکے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور پاکستان کی کپتان ماریہ جمیلہ خان کو اس میچ کی بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سعودی عرب اور پاکستان کا میچ ایک ایک گول سے برابر رہا لیکن سعودی عرب کی ٹیم ویمن انٹرنیشنل فرینڈلی ٹورنامنٹ کے گروپ میں سات پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست رہی اور اپنی پہلی ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ پاکستان کی ٹیم چار پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ سعودیہ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں سعودی عرب، پاکستان ، موریشیئس اور کومورس کی ٹیمیں شامل تھیں۔

سوشل میڈیا پر وزیراعظم سمیت بہت سارے پاکستانی ان کی اس فری کِک کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس شاندار گول اور کامیابی کے بعد ماریہ خان کا نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور ان کے گول کے کلپس شیئر کیے جا رہے ہیں، ماریہ سکواش کے پہلے پاکستانی عالمی چیمپئن ہاشم خان کی نواسی ہیں اور جہانگیر خان ان کے انکل ہیں۔

ہاشم خان نے 1950 کی دہائی میں مشہور زمانہ برٹش اوپن کا اعزاز سات بار حاصل کیا تھا۔ یہ ریکارڈ 23 سال قائم رہا جسے آسٹریلیا کے جیف ہنٹ نے توڑا لیکن پھر جہانگیرخان نے دس بار یہی اعزاز جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی تھی۔ جہانگیر خان نے چھ مرتبہ ورلڈ اوپن جیتا اور 1980 کی دہائی میں لگاتار 10 مرتبہ برٹش اوپب کے فاتح رہے۔

ماریہ خان دراصل ہاشم خان کی چھوٹی بیٹی کی اولاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے نانا ہاشم خان نے زندگی کا آخری حصہ انہی کے ساتھ امریکہ میں گزارا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ ہم نے خاندانی روایت کے مطابق سکواش کیوں نہیں کھیلی، وہ بتاتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے امریکہ میں تب سکول کی سطح پر سکواش تھی ہی نہیں، وہ کہتی ہیں کہ ان کو گول کیپر بننا پسند تھا، وہ یونیورسٹی کی ٹیم میں بطور گول کیپر کھیلتی تھیں۔ ماریہ گریجویشن کے بعد 2013 میں متحدہ عرب امارات چلی گئیں جہاں وہ ماسٹرز کرنا چاہتی تھیں، اسی دوران وہ عرب امارات کی خواتین فٹبال ٹیم کے ساتھ کھیلنے لگیں لیکن مِڈفیلڈر کے طور پر۔گذشتہ برس ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن ویمن چیمپئن شپ میں انھوں نے پہلی بار کسی بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وہ بھی بطور کپتان۔ ایسا اس لیے ہوا کہ پاکستان کی ٹیم آٹھ سال بعد کسی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لے رہی تھی۔

ویمن ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست

Related Articles

Back to top button