’’والدین اولاد کو طلاق کے مشورے کیوں دینے لگے‘‘

معروف اداکارہ جگن کاظم نے انکشاف کیا ہے کہ حالات اس قدر تبدیل ہو چکے ہیں کہ اب والدین ہی اولاد کو طلاق کا مشورہ دیتے ہیں، شادی برقرار رکھنے کے لیے میاں بیوی کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، شادی اگر پھر بھی نہ چلے تو کنارہ کشی اختیار کرلیں۔حال ہی میں جگن کاظم نے ممتاز شخصیت مسرت مصباح کو انٹرویو دیا جس میں اداکارہ نے اپنی دوسری شادی اور طلاق کے حوالے سے گفتگو کی۔اداکارہ نے کہا کہ طلاق ایک ناپسندیدہ فیصلہ ہے، یہ جائز ہے لیکن اچھی چیز نہیں ہے، یہ فیصلہ پورے خاندان کو تکلیف دیتا ہے، پرانے وقتوں میں شادی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی، اُس وقت تو عورت سے یہ بھی کہا جاتا تھا کہ تمہارا جنازہ ہی اُس گھر سے اٹھے گا لیکن آج والدین اپنے بچوں کو طلاق کا مشورہ دیتے ہیں اور یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرانے وقتوں میں طلاق کو بہت برا سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے، آج کل طلاق کو بہت آسان بنا دیا گیا ہے، اگر میاں بیوی کے رشتے میں کچھ اختلافات ہوتے ہیں تو اُن کو ٹھیک کرنے کے بجائے فوری طلاق لے لی جاتی ہے اور والدین بھی اب اپنی اولاد کو یہی سِکھا رہے ہیں۔جگن کاظم نے کہا کہ وہ خود طلاق سے گزر چکی ہیں، طلاق کے فیصلے سے انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے ، بات یہ ہے کہ انسان کو شادی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، شادی نہ چلے تو کنارہ کشی اختیار کرلیں، ان کے لیے دوسری شادی کا فیصلہ مشکل تھا کیونکہ وہ پہلے سے ہی ایک بچے کی ماں تھیں اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے بچے کا مستقبل خراب ہو، انہیں دوسری شادی کا فیصلہ کرنے میں 6 ماہ لگے، شادی سے قبل انہوں نے اپنے بچے کو فیصل (دوسرے شوہر) سے ملوایا تھا تاکہ بچوں کے درمیان معاملات ٹھیک رہیں۔یاد رہے کہ جگن کاظم کی شادی سال 2013 میں فیصل ایچ نقوی کے ساتھ ہوئی جن سے ان کا ایک بیٹا اور بیٹی ہے جبکہ بڑا بیٹا حمزہ ان کی
پہلی شادی سے ہے۔
