پیغام رسانی کا سلسلہ کبوتروں سے انٹرنیٹ تک کیسے پہنچا؟

زمانہ قدیم میں جدید ذرائع کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیغام رسانی کیلئے وفادار کبوتروں کا سہارا لیا جاتا تھا، یا پھر پیغام رسانی کا کام پیادہ کارندے کیا کرتے تھے جو ایک طویل مسافت پر محیط ہوا کرتی تھی، پھر انسان نے پیغام رسانی کیلئے جانوروں کی سواری کا سہارا ڈھونڈ نکالا تو یوں کچھ وقت کی بچت ہونے لگی۔ریل کی ایجاد نے تو گویا لوگوں کو ایک عرصہ تک حیرت زدہ کئے رکھا، زمانہ قدیم میں تیز پیغام رسانی کا جو ذریعہ قدرت نے سب سے پہلے انسانی ذہن کو عطا کیا وہ ریل کی ایجاد جیسے جدید طریقہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ حیران کن تھا، اس دور میں انسان کے پاس حیوانی قوت کے سوا اور کوئی طاقت دستیاب نہ تھی، چنانچہ قدرت نے جس حیوان کو فوری انسانی پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا وہ کبوتر تھا۔کبوتر ایک ایسا پرندہ ہے جو تیز رفتاری کے ساتھ لمبی پرواز کر سکتا ہے، کبوتر کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اسے جہاں کہیں بھی چھوڑیں، وہ راستہ تلاش کر کے کمال مہارت سے اپنے ٹھکانے پر واپس پہنچ جاتا ہے، کبوتروں کی پیغام رسانی کی تاریخ یوں تو کافی پرانی ہے تاہم کبوتروں کا جنگوں میں بطور پیغام رساں سب سے پہلے استعمال کا ذکر 43 قبل مسیح کے دوران ملتا ہے جب اس وقت کے شہنشاہ ڈیسیمس نے اطالوی شہر مودینہ پر حملہ کی اطلاع دینے کیلئے کبوتر کو بطور پیغام رساں استعمال کیا۔تاریخ کے معلوم ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ کبوتروں کو پالنے اور ان کو بطور پیغام رساں استعمال کرنے کا ذکر سب سے پہلے 1000 قبل مسیح میں ملتا ہے، سوسائٹی آف امریکن ملٹری انجینئرز کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق کبوتروں کو پالنے کے رواج کے تانے بانے فراعین مصر کے پانچویں خاندان اور اسی دور کے یونان کے ساتھ جا کر ملتے ہیں۔امریکی جریدے ’’سائنٹیفک امریکن‘‘ کے مطابق کبوتروں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل کا سہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے، جب شام اور مصر، یورپ کے متواتر حملوں کی زد میں تھے تو 567 ہجری میں نورالدین زنگی نے پیغام رسانی کیلئے کبوتروں کی تربیت کا اہتمام کیا۔ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ فرانسیسی انقلاب کے دوران بھی کبوتروں کو پیغام رسانی کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔1844ء میں سال ٹیلی گرام کی ایجاد کے بعد کبوتروں کا استعمال بتدریج کم ہوتا چلا گیا لیکن جنگوں کے دوران کبوتروں کو جاسوسی اور پیغام رسانی کیلئے ایک عرصہ تک استعمال کیا جاتا رہا ہے، بھارت واحد ملک ہے جہاں ابھی تک کبوتروں کو جاسوسی کیلئے سب سے زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت میں باقاعدہ طور پر 1952ء سے ایک کبوتر کوریئر سروس کام کر رہی تھی جسے 2002ء میں بند کر دیا گیا، اس سروس میں 800 کے لگ بھگ تربیت یافتہ کبوتر تھے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے بھارت کو تحفے میں دیئے تھے۔امریکہ کے نیشنل آرکائیوز میں درج ایک واقعہ کے مطابق 3 اکتوبر 1918ء میں جنگ عظیم اوّل کے دوران جب جرمن اور امریکی فوجیں ایک دوسرے سے برسر پیکار تھیں، 3 اکتوبر 1918ء صبح تین بجے امریکی فوجی کمان نے ’’چیر آمی‘‘ نامی ایک کبوتر کے پنجوں کے ساتھ اپنے برسر پیکار دستے کو ایک تحریری پیغام بھیجا کہ ’’ہم 4 /276 روڈ پر موجود ہیں اور ہمارا اپنا ہی توپ خانہ ہم پر گولیاں برسا رہا ہے، خدارا اسے روکا جائے۔ اس نازک صورتحال میں یہ کبوتر اس امریکی انفنٹری کیلئے امید کی آخری کرن تھی، انفنٹری کے برسر پیکار دستے کو جیسے ہی یہ پیغام موصول ہوا اس نے فی الفور اپنے ساتھیوں پر فائرنگ روک دی اور یوں اس وفادار کبوتر کی فرض شناسی کی وجہ سے 200 امریکی فوجیوں کی جان بچ گئی، اس بہادری کی وجہ سے فرانسیسی حکومت نے اس کبوتر کو ’’ڈیکن میڈل‘‘ سے نوازا۔

Related Articles

Back to top button