فون ٹیپنگ کیسے ہوتی ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

پاکستانی سیاست میں ایک مرتبہ پھر وائر ٹیپنگ، فون ٹیپنگ اور آڈیو لیکس زیر بحث ہیں جس کی بنیادی وجہ حال ہی میں سابقہ خاتون اول بشری بی بی کی لیک ہونے والی ایک آڈیو ہے۔ تحریک انصاف کی سینیئر رہنما شیریں مزاری نے الزام عائد کیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں غیر قانونی طور پر فون ٹیپنگ کرتی ہیں اور عمران خان کی ’سکیور لائن ٹیپ کرنے پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ لیکن یہ مطالبہ کرتے ہوئے وہ بھول گئیں کہ عمران خان بطور وزیراعظم آن کیمرہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ایجنسیاں فون ریکارڈنگ کرتی ہیں اور میرا فون بھی ریکارڈ ہوتا ہے۔ یعنی خان صاحب کے دور میں بھی یہ کام ہوتا تھا اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ تب ان کے مخالفین نشانہ بنتے تھے۔

تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے شیریں مزاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کے ترجمانوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ فوج کے خلاف غداری کے ٹرینڈ اور اداروں کے خلاف مہم بشری بی بی نے چلوائی۔ وہ بشری بی بی کی آڈیو ریکارڈنگ کا حوالہ دے رہی تھیں جو چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

جب اینکر شاہزیب خانزادہ نے اُن سے پوچھا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے نیوٹرلز پر تنقید کے بعد ان کے لیڈرز کی آڈیوز ریکارڈ کر کے منظر عام پر لائی جا رہی ہیں تو اُن کا جواب تھا کہ سیاسی مفاد کے لیے ہم نے کبھی اس طرح کی کوششیں نہیں کیں۔ جب مریم نواز کی آڈیو آئی تو یہی لوگ ڈھول بجا رہے تھے۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’عمران خان ماضی میں کہتے تھے کہ وزیر اعظم کی فون ریکارڈنگ بالکل صحیح ہوتی ہے۔ انھوں نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔

مگر اس بحث میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جدید دور میں فون ٹیپنگ کس طرح کی جاتی ہے اور کیا اسے پکڑنے کا کوئی طریقہ موجود ہے۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ میں میں بتایا گیا ہے کہ آسان لفظوں میں فون ٹیپنگ سے مراد کسی کے فون سے ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت سُننا اور ریکارڈ کرنا اور اس سے معلومات حاصل کرنا ہے۔

انفارمیشن سکیورٹی اور ٹیلی کام کے شعبے سے منسلک حسن عماد نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسا نظام موجود ہوتا ہے کہ وہ شک کی بنیاد پر کسی بھی کال کو ٹیپ کر سکتے ہیں جبکہ اس طرح کی ٹیکنالوجی عام لوگوں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لینڈ لائن جیسے پی ٹی سی ایل کی ایکسچینج میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے آلات لگا دیتے ہیں اور ان کے پاس مکمل رسائی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی کال کو ریکارڈ یا ٹیپ کر سکیں جبکہ موبائل فون نیٹ ورک میں بھی ایکسچینج ہوتے ہیں، ان میں بھی وہ اپنے آلات لگا کر کال کو سُن سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فون کال کے دوران نیٹ ورک کی جانب سے گیٹ وے تک ڈیٹا پہنچایا جاتا ہے مگر درمیان میں ایجنسیاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی کو مانیٹر کر سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسے ٹیپ کیا جا رہا ہے اور کس کی کال ریکارڈ ہو رہی ہے، اس کا علم نیٹ ورک پرووائیڈرز کے پاس نہیں ہوتا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کسی کے لینڈ لائن نیٹ ورک کو ٹیپ کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس کی تار کے ساتھ ٹیمپرنگ کی جا سکتی ہے۔ ’پی ٹی سی ایل یا کوئی اور لینڈ لائن کی صورت میں کیبل جس ڈسٹریبیوشن بوکس سے گزر کر گھر آ رہی ہو وہاں کوئی بھی شخص اپنا ٹیلی فون لگا کر آپ کے نمبر سے کال ملا سکتا ہے اور سُن سکتا ہے۔‘ حسن عماد نے کہا کہ اگر فون کی کیبل پر کوئی کنڈے ڈال دے یا بارش کی وجہ سے لائن جوائن ہوجائے تو ایک کال کے دوران دوسری کالز کی بھی آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔

سائبر سکیورٹی کے ماہر اعتزاز محسن کہتے ہیں کہ ہر ٹیلی کام سینٹر میں کچھ ڈیوائسز یا آلات لگی ہوتی ہیں جو خاص طور پر ’قانونی انٹرسیشپن‘ کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ اگر کسی کی کال ٹیپ کرنی ہو تو ان ڈیوائسز میں وہ نمبر درج کر دیے جاتے ہیں ہے اور جیسے ہی وہ شخص کال ملاتا ہے تو اسکی کال کی ریکارڈنگ سنی جا سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کریمینل انٹرسیپشن میں کوئی شخص آپ کے گھر یا دفتر کے باہر جا کر اپنی ڈیوائسز کے ذریعے کال کو غیر محفوظ چینل پر کنورٹ کر سکتا ہے، جیسے اسے تھری جی کو کم محفوظ نیٹ ورک ٹو جی پر منتقل کر دیا جاتا ہے جس میں انکرپشن اتنی مضبوط نہیں ہوتی۔ جیسے ہی آپ کال ملاتے ہیں تو آپ کا موبائل سب سے قریب کسی ٹاور کو تلاش کرتا ہے اور اس سے کنیکٹ ہو جاتا ہے۔ اگر گاڑی میں ایسی ڈیوائس لگی ہو جو بطور ٹاور کام کرے تو موبائل کسی ٹاور کے بجائے اس ڈیوائس سے کنیکٹ ہو جاتا ہے۔ اعتزاز کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا فون ہیک ہو جائے تو سپائی ویئر کے ذریعے بھی کال سُنی جا سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ کی فون کال کے دوران شور آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا فون ٹیپ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین اپنے موبائل فون میں کسی بھی طرح کی غیر ضروری ایپ نہ رکھیں جس سے فون ٹیپنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ’کسی بھی ایپلی کیشن کو اتنی ہی پرمیشنز دیں جتنی کہ ضروری ہیں۔ جیسے اگر کیلکولیٹر کی ایپ آپ سے کیمرے اور مائیکروفون کی اجازت مانگے تو اس کا یہ کام نہیں ہے۔ اسکے علاوہ سمارٹ فونز سے کی جانے والی فون ٹیپنگ سے بچنے کے لیے صارفین محفوظ میسجنگ ایپس جیسے سگنل استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر فون استعمال کرنے کے دوران آپ کا نیٹ ورک اچانک تھری جی سے ٹو جی پر منتقل ہو جائے تو یہ بھی ایک ریڈ فلیگ ہے اور اس کا مطلب ہے کہ آپ کا فون ٹیپ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی کال انکرپٹڈ ہوتی ہے یعنی اسے درمیان میں کوئی نہیں سُن سکتا لیکن لینڈ لائن کی کال میں انکرپشن نہیں ہوتی اور یہ سنی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فون ایپس صرف وہ استعمال کریں جو پلے سٹور سے تصدیق شدہ ہیں۔ پبلک وائی فائی یا ہاٹ سپاٹ پر کبھی انٹرنیٹ استعمال نہ کریں اور اس کے ذریعے کالز نہ کریں۔

Related Articles

Back to top button