دنیا کے امیر ترین شخص نے ٹویٹر کی خریداری مؤخر کیوں کی

دنیا کے امیر ترین شخص اور معروف الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے 44۔ارب ڈالرز میں معروف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹوئٹر‘‘ خریدنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے

جسکی بنیادی وجہ انکی جانب سے کیا جانے والا یہ مطالبہ ہے کہ جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس کی مستند گنتی ہو اور بتایا جائے کہ وہاں کتنے جعلی اکاؤنٹس موجود ہیں۔

ایلون مسک نے اپریل میں ٹوئٹر کے فی شیئر کی قیمت 54 ڈالر سے زائد کی پیش کش کر کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کو 44 ارب ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا تھا اور ٹوئٹر کے ڈائریکٹرز نے ان کی پیش کش کو قبول بھی کر لیا تھا۔ یہ پیش کش قبول کیے جانے کے بعد ایک طرح سے ایلون مسک اور ٹوئٹر کے درمیان خریداری کا معاہدہ بھی طے پا گیا تھا مگر تمام مالکانہ حقوق ایلون مسک کو منتقل نہیں ہوئے تھے۔ اب ایلون مسک نے باضابطہ طور پر ٹوئٹر کو خریدنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے فوری طور پر خریدنے کا فیصلہ عارضی طور پر غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔

ایلون مسک نے 13 مئی کو اپنی ٹوئٹ میں رائٹرز کی رپورٹ کو شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کی خریداری کا معاملہ عارضی طور پر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ہے۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر کی فوری خریداری کے معاملے کو منسوخ کرنے کا سبب بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس کی مستند گنتی ہونی چاہئے اور واضح ہوکہ وہاں کتنے جعلی اکاؤنٹس موجود ہیں، ساتھ ہی اپنی ایک اور ٹوئٹ میں واضح کیا کہ وہ ابھی تک ٹوئٹر کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اسے خریدیں گے۔ ایلون مسک نے رائٹرز کی جس رپورٹ کا لنک شیئر کیا، اس میں بتایا گیا تھا کہ ٹوئٹر کے فعال صارفین کی تعداد 23 کروڑ کے قریب ہے، جن میں سے کم از کم 5 فیصد اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ اس سے قبل ایلون مسک نے ٹوئٹر کو بھاری رقم کے تحت خریداری کی پیش کش کرتے وقت اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ سے جعلی اکاؤنٹس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں کس نے چھپا رکھا تھا؟

ایلون مسک نے ساتھ ہی ایک اور ٹوئٹ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال ہونا چاہئے اور یہ کہ وہ ان کی 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے حمایت نہیں کر رہے۔

ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کی فوری خریداری کے معاملے کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کے بعد اس کے شیئر کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اس کے فی شیئرز کی قیمت 37 ڈالر سے بھی کم پر آ گئی۔

Related Articles

Back to top button