سینیٹ الیکشن: KP اسمبلی کا ایک ووٹ 22 کروڑ روپے میں بکنے لگا

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ر ووف کلاسرا نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ کیلئے سینیٹ الیکشن کی آمد کیے ساتھ ہی دونوں جانب سے ووٹوں کی خرید و فروخت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ جے یو آئی کے حافظ حمد اللہ  کے مطانق خیبر پختون خوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے ایک ایم پی اے کے ووٹ کا ریٹ 22 کروڑ روپے تک جا چکا ہے۔ یعنی 22 کروڑ روپے دو اور ووٹ لو۔

رووف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ مان لیا ووٹوں کی خرید وفروخت نئی نہیں ہے‘ ہر بات سینیٹ الیکشن کے موقع پر الزام لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ راتوں رات کہیں سے ارب پتی اٹھتے ہیں اور سینیٹر بننے کیلئے جتنے ووٹ درکار ہوتے ہیں‘ خرید لیتے ہیں۔ ایم پی ایز کے سامنے بریف کیس رکھ دیے جاتے ہیں کہ مرضی ہے تو اٹھا لو۔ اب ایک ووٹ کا ریٹ ہے 22 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔

انکے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ سینیٹ میں ووٹ بکنے یا بیچنے کا معاملہ سب سے زیادہ خیبر پختون خوا ہی میں کیوں سامنے آتا ہے؟ یہ وبا بلوچستان میں بھی ہے لیکن زیادہ کہانیاں کے پی کی مشہور ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں بھی شاید ووٹ بکنے کی بات ہوتی ہو۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ کبھی ڈیرہ اسماعیل خان کے دو بھائی اس کام کیلئے مشہور تھے کہ وہ نوٹ دے کر سینیٹر بن جاتے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک تو وزیر خزانہ بھی بننا چاہتا تھا اور اس نے اس مقصد کے لیے خاصا پیسہ بھی خرچ کیا۔ اس کے ہاتھ اور کچھ نہ لگا تو نجکاری کا وزیر بن گیا اور وہاں بھی 500 کروڑ کے سکینڈل میں پھنس گیا۔ کیس نیب تک گیا مگر پھر کچھ پتا نہ چلا کہ اس کیس کا کیا بنا۔ جب نیب قانون میں تبدیلی کی گئی تھی تو شاید وہ بھی بچ نکلا ہوگا۔

کبھی سینیٹ میں ایک مخصوص کلاس کے لوگ آتے تھے۔ سیاسی پارٹیاں اہم اور پڑھے لکھے لوگوں کو سینیٹ میں بھیجتی تھیں اور کاروباری افراد یا ٹھیکیداروں کو ٹکٹ نہیں ملتے تھے۔ بڑے بڑے اچھے مقرر اور ٹیکنو کریٹس سینیٹ میں نظر آتے‘ وہ۔لوگ جب تقریر کرتے تو انہیں سُن کر مزہ آتا تھا۔ ایک دور وہ بھی تھا کہ ہمارے جیسے صحافی قومی اسمبلی سے زیادہ سینیٹ کی پریس گیلری میں وقت گزارتے تھے کہ وہاں تقریروں اور گفتگو کا معیار بہت اعلیٰ تھا۔ کوئی شور شرابہ‘ ہنگامہ‘ گالی گلوچ یا دھکم پیل نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی اسمبلی اراکین کی طرح تقریروں میں اپنی پارٹی لیڈروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ پارٹی لیڈرز بھی سینیٹرز کی عزت کرتے تھے اور اکثر پارٹی سربراہان خود ایسے قابل لوگوں کو درخواست کر کے سینیٹ لاتے تھے۔ لیکن دھیرے دھیرے پڑھے لکھے سینیٹرز کا دور ختم ہوا اور پھر پتا چلا کہ اب وہی سینیٹر بنے گا جس کے پاس پیسے ہوں گے۔

رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ اب تو ایم پی اے بھی کہنے لگے ہیں کہ اگر پارٹی سربراہ کسی ٹھیکیدار‘ بلڈر یا بڑے برنس مین سے پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے لے کر اسے ٹکٹ سے نواز دیتے ہیں تو وہ کیوں پیچھے رہیں؟ یوں ایم پی ایز نے بھی اپنا ریٹ لگوانا شروع کر دیا ہو کیونکہ الیکشن میں اصل خرچہ تو وہ کر کے اسمبلی تک پہنچتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو تو کچھ برس قبل پی ٹی آئی کے 20 ایم پی ایز کی وڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں وہ پیسے لے کر ووٹوں کی خرید وفروخت کا معاملہ طے کر رہے تھے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں لیکن پی ٹی آئی کے اراکین کا اس طرح ووٹ بیچنا یقینا پریشان کن امر تھا کیونکہ عمران خان تو کہتے تھے کہ ان کی پارٹی ایماندار لوگوں پر مشتمل ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ آپ لوگ مجھ پر اعتبار کریں‘ میں جن لوگوں کو ٹکٹ دوں گا وہ اچھے اور ایماندار ہوں گے۔

تب پی ٹی آئی کا یہ بھی نعرہ بڑا مقبول تھا کہ ٹاپ پر اگر ایماندار بندہ بیٹھا ہو توایمانداری نیچے تک پھیل جاتی ہے۔ لیکن ہوا اسکے الٹ، کیونکہ خود کپتان اور ادکی گھر والی پر مال بنانے کے الزامات لگنا شروع ہو گئے۔ لیکن اس صوبے میں تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے اپنے ووٹ بیچنا زیادہ حیران کن ہے‘ جہاں پی ٹی آئی تیسری بار حکومت کر رہی ہے۔ سیاست میں کرپشن کا آغاز 1985 میں جنرل ضیا دور سے ہوا تھا‘ جب ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسہ ارکانِ اسمبلی کی جیبوں میں جانا شروع ہوا۔ اس سے پہلے سیاستدانوں پر الزامات لگتے بھی تھے تو زیادہ سے زیادہ الاٹمنٹ یا راشن ڈپو سے متعلق ہوتے تھے۔ ورنہ کسی بڑے سیاست دان کے بارے آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ وہ مالی کرپشن کر رہا ہے یا رشوت دے کر ٹھیکے لے رہا یا دلوا رہا ہے۔ اب سیاست صرف طاقت کا محور نہیں بلکہ یہ ایک کاروبار ہے۔ اب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے کاروبار کا تحفظ کرنا یا ٹھیکے لینے ہیں تو آپ کو پارلیمنٹ میں پہنچنا ہوگا۔ اب براہِ راست الیکشن لڑنا آسان نہیں لہٰذا شارٹ کٹ آپ کے پاس سینیٹ ہے کہ وہاں کی سیٹ خرید لو۔ سینیٹر بننے کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے کہ وزارت لینے کی کوشش کی جائے جو ایک مشکل کام ہے۔ پھر اس کے بعد جو اصل لڑائی ہے وہ کمیٹیوں کے چیئرمین بننے پر ہوتی ہیں۔ اگر کمیٹی کی چیئرمین کی پوسٹ نہ ملے تو پھر کمیٹی ممبرشپ پر لڑائی ہوتی ہے۔ اکثریت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُس کمیٹی کا ممبر بنے جو اس کے کاروبار سے متعلق ہے۔ یوں اکثریت کمیٹیوں کے ارکان آپ کو ٹھیکیدار اور بلڈرز ہی نظر آئیں گے۔

رووف کلاسرا کے مطابق یقینی طور پر سارے سینیٹرز نہ تو ووٹ خرید کر آتے ہیں اور نہ ہی ان کے کاروباری مفادات ہوتے ہیں۔ لیکن اب کچھ برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمیٹی اجلاسوں میں زیادہ تر ممبرز کاروباری ہیں‘ بلڈرز اور ٹھیکیدار ہیں جو اپنے کاروبار کی پروموشن کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور اس کے مطابق ہی قوانین میں رعایتیں یا تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان میں سیاست اب کاروبار سے جڑ گئی ہے۔ ہر بڑے کاروباری گروپ کو اپنا بندہ پارلیمنٹ اور کابینہ میں چاہیے۔ اگر کچھ گروپ خود سیاست میں داخل نہیں ہو سکتے تو وہ پارٹیوں کو چندہ اور مالی امداد‘ گاڑیاں اور سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل خبر آئی تھی کہ الیکشن سے قبل نواز شریف کو لاہور میں چند بڑے کاروباریوں نے ایک ارب روپے پارٹی فنڈ کے نام پر دیے تھے۔ اس طرح عمران خان کو بھی بڑے بڑے بزنس مین اور دیگر لوگ چندہ اور پیسہ دیتے آئے ہیں۔ اگرچہ بیرونی دنیا میں سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینا عام بات ہے لیکن ہمارے ہاں اس چندے کو چھپایا جاتا ہے کہ کس نے کتنے پیسے دیے‘ اور یہ بھی کہ کاروباری گروپس کی کسی سیاست دان سے کیا توقعات ہیں۔ یہاں کوئی کسی کا سگا نہیں۔ جو آپ کو پیسے دے رہا ہے‘ اس نے اس کی ریکوری بھی کرنی ہے۔ بہرحال ہر تین سال بعد سینیٹ الیکشن ایک موقع ہوتا ہے‘ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کہ وہاں کے ایم پی ایز کروڑوں کما سکیں۔ اب وہ موسم آن پہنچا ہے‘ جب کچھ ایم پی ایز کے ووٹ بکیں گے اور ووٹ بیچ کر وہ عمران خان کو رہا کرانے کیلئے سروں پر کفن باندھ کر اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کریں گے۔

Back to top button