آئین کے محافظ ہیں انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں

عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشرتخ کیلئے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ 24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں،آئین کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے، سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے اس کی پروا نہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 5 رکنی بینچ نےصدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ آئین کی خلاف ورزی کوئی چھوٹی بات نہیں،کچھ لوگ تو فوراً آرٹیکل 6 پر چلے جاتے ہیں، ہم نے دیکھنا ہے جب آئین کی خلاف ورزی ہو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، کیا آئینی خلاف ورزی پرکوئی ہنستے کھیلتےگھنٹی بجاکر نکل جائے یا آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔جب دس 15 ہزارلوگ جمع ہوکر عدالتی فیصلوں پرتنقید شروع کردیں تو ہم فیصلےکیوں سنائیں؟ عدالت سیاسی بحث میں کیوں شامل ہو؟ سیاسی رہنماؤں سے توقع کرتےہیں کہ وہ پبلک میں عدالتی فیصلوں کادفاع کرسکیں، آئین کی پاسداری اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادکا کہنا تھا کہ پارٹی سے انحراف رکن اسمبلی کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ آرٹیکل 63 اے کےتحت تاحیات نااہلی ہوئی تو آرٹیکل 95 کی کیا اہمیت رہ جائےگی؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ آرٹیکل 95 کا سوال ابھی عدالت کے سامنے نہیں، بی این پی مینگل کے وکیل مصطفٰی رمدے نے دلائل میں کہا کہ صدر نے تو ریفرنس میں عدالت سے آئین دوبارہ لکھنےکا کہاہے، آرٹیکل 63 اے بالکل واضح ہے۔ جسٹس منیب اختر نےکہا کہ آئینی ترمیم میں ووٹ نہ دینا اور مخالف پارٹی کو ووٹ دینا الگ چیزیں ہیں، مخالف پارٹی کو ووٹ دینےکے لیے مستعفی ہونا زیادہ معتبر ہے۔وکیل مصطفی رمدے نےکہا کہ مستعفی ہونے جیسا انتہائی اقدام واحد حل کیسے ہوسکتا ہے؟ پارٹی سربراہ کی پابندی کرنا غلامی کرنےکے مترادف ہے۔
جسٹس مینب اختر نےکہا کہ ایسی بات سے آپ پارلیمانی جمہوریت کی نفی کررہے ہیں، پارلیمانی پارٹی کے فیصلےسےکسی رکن کو اختلاف ہے تو استعفیٰ دے، ضمنی الیکشن آزاد حیثیت سے لڑ کر واپس آیا جاسکتا ہے، آرٹیکل 95 اور آرٹیکل 63 اے میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ وکیل مصطفی رمدے نےکہا کہ عدالت کے خلاف سنجیدہ قسم کی مہم چلائی جارہی ہے، عدالت کومفروضوں کی بنا پر غیر ضروری سیاسی عمل میں دھکیلا گیا۔
عدالت نے سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

Related Articles

Back to top button